مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 282
282 ذوالقرنین بھی رکھا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی میری نسبت یہ وحی مقدس ہے کہ جرى الله في حلل الانبیاء جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کا رسول تمام نبیوں کے پیرائیوں میں۔یہ چاہتی ہے کہ مجھ میں ذوالقرنین کی صفات بھی ہوں۔کیونکہ سورہ کہف سے ثابت ہے کہ ذوالقر نین بھی صاحب وحی تھا۔امام الزمان ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن۔جلد 21 صفحہ 112 تا 118) میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور شرطیں جمع کی ہیں اور اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا یادر ہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول محدث ، مجد دسب داخل ہیں۔مگر جولوگ ہے۔ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کیلئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات اُن کو دیئے گئے گووہ ولی ہوں یا ابدال ہوں ، امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔( ضرورة الامام۔روحانی خزائن۔جلد 13 صفحہ 495) اب ایک ضروری سوال یہ ہے کہ امام الزمان کس کو کہتے ہیں اور اس کی علامات کیا ہیں اور اس کو دوسرے ملہموں اور خواب بینوں اور اہل کشف پر ترجیح کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امام الزمان اس شخص کا نام ہے کہ جس کی روحانی تربیت کا خدا تعالیٰ متولی ہوکر اُس کی فطرت میں ایک ایسی امامت کی روشنی رکھ دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کے معقولیوں اور فلسفیوں سے ہر ایک رنگ میں مباحثہ کر کے ان کو مغلوب کر لیتا ہے۔وہ ہر ایک قسم کے دقیق در دقیق اعتراضات کا خدا سے قوت پا کر ایسی عمدگی سے جواب دیتا ہے کہ آخر ماننا پڑتا ہے کہ اس کی فطرت دنیا کی اصلاح کا پورا سامان لے کر اس مسافر خانہ میں آئی ہے۔اس لیے اس کو کسی دشمن کے سامنے شرمندہ ہونا نہیں پڑتا۔وہ روحانی طور پر محمدی فوجوں کا سپہ سالار ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ پر دین کی دوبارہ فتح کرے اور وہ تمام لوگ جو اس کے جھنڈے کے نیچے آتے ہیں ان کو بھی اعلیٰ درجہ کے قویٰ بخشے جاتے ہیں اور وہ تمام شرائط جو اصلاح کیلئے ضروری ہوتے ہیں اور وہ تمام علوم جو اعتراضات کے اٹھانے اور اسلامی خوبیوں کے بیان کرنے کیلئے ضروری ہیں اس کو عطا کئے جاتے ہیں۔( ضرورت الامام۔روحانی خزائن۔جلد 13 صفحہ 476)