مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 276
276 تعارف بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام (۱۸۳۵ء تا ۱۹۰۸ء) نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر مشرقی پنجاب انڈیا کی ایک گمنام بستی قادیان میں یہ دعوئی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس زمانہ کی اصلاح کیلئے مامور فرمایا ہے اور آپ وہی مہدی اور مسیح ہیں جس کے ظہور کی خبر حضرت محمد مصطفی ﷺ نے دی تھی اور جس کے ذریعہ اسلام کا تمام ادیان پر غلبہ مقدر ہے۔آپ نے ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو ہندوستان کے شہر لدھیانہ میں چالیس مخلصین سے بیعت لی اور آنحضرت ﷺ کے احمد نام کی مناسبت سے اس جماعت کا نام جماعت احمد یہ رکھا۔آپ نے ۸۰ سے زائد کتب تصنیف فرما ئیں اور زندگی بھر عیسائیوں، آریوں اور دیگر مذاہب کی طرف سے اسلام پر ہونے والے حملوں کا بے مثال دفاع کیا۔1990ء میں آپ کی وفات کے بعد جماعت احمدیہ میں خلافت کا نظام قائم ہوا اور اب جماعت کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ ہیں جو آج کل لندن میں مقیم ہیں۔نظام خلافت کی برکت سے یہ جماعت آج دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہے اور کروڑوں افراد اس الہی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔حضرت بانی جماعت احمدیہ کا دعویٰ آپ کے اپنے الفاظ میں پیش ہے۔مسیح اور مہدی ” جو خدا کی طرف سے تجدید دین کیلئے آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں تا وہ جو زمین پر سے اُٹھ گیا ہے اس کو دوبارہ قائم کروں اور خدا سے قوت پا کر اسی کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو اصلاح اور تقویٰ اور راستبازی کی طرف کھینچوں اور ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کو دور کروں اور پھر جب چند سال اس پر گزرے تو بذریعہ وحی الہی میرے پر بتصریح کھولا گیا کہ وہ مسیح جو اس امت کیلئے ابتداء سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الہی میں مقرر کیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم ﷺ نے دی تھی وہ میں ہی ہوں“۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 3-4)