مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 264 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 264

264 امیر المومنین کا خطاب جب جہاد بالسیف کی ضرورت آن پہنچی تو امیر المومنین کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔جو نام پیش ہوئے عبد اللہ بن فودی عمر الکامبو امام محمد تنبو ان پر کسی کا اتفاق نہ ہوا اور آخر سب نے مل کر حضرت عثمان بن فودی کو اپنا امیر المومنین منتخب کر لیا اور آپ کو امیر المومنین یا سارکن مسلمی (Sarkin Muslimi) کا خطاب ملا۔ھے انتخاب کے بعد سب نے آپ کی بیعت کی۔111 آپ نے بہت سے علاقے فتح کئے۔تا بکن کو اتو Tabkin Kwatto ، ما تنکاری کو فتح کیا۔گینیگا (Giniga) برن کونی کو فتح کیا۔۔۔بعد ازاں مخالفین سے صلح کی بھی طرح ڈالی مگر اس میں ناکامی رہی۔ریاست کیبی پر حملہ کیا اور فتح کیا۔گوانڈ و Gwandu میں نئے مرکز کا قیام کیا۔یہ 1805ء میں قائم ہوا۔7-1806ء میں مجاہدین اور کا نو کی فوج کے درمیان سخت جنگ ہوئی۔مجاہدین نے کا نو کو فتح کر لیا۔اسی طرح ریاست زازاڈ، الکارہ کو بھی فتح کیا۔مفتوحہ علاقوں میں دارالحکومتوں اور نوابوں کا تقرر کیا۔آپ کا جہاد خالصہ مذہبی جہاد تھا۔شیخ عثمان ڈان خود یو مجد دزمانہ تھے حضرت شیخ مجدد تھے۔مہدی منتظر نہ تھے۔جس کی حقیقت آپ نے خود بیان فرمائی۔چنانچہ "Islam in Tropical Africa" میں آپ کی کتاب "تخذ مر الاخوان کے حوالہ سے لکھا ہے :- ترجمہ: اے میرے بھائیو! خوب جان لو کہ میں امام مہدی نہیں ہوں اور نہ کبھی میں نے مہدویت کا دعویٰ کیا ہے۔اگر چہ یہ بات دوسرے لوگوں کی زبان سے سنی گئی ہے۔تاہم میں نے اس بات سے سختی سے منع کر دیا ہے۔اور اپنی عربی اور عجمی تحریرات میں بھی اس کی تردید کر دی ہے۔اسی طرح آپ کے بیٹے محمد بلو نے بھی لکھا ہے کہ آپ کا دعویٰ ہرگز مہدویت کا نہ تھا بلکہ آپ مجد والوقت قطب الزمان اور غوث اعظم تھے۔چنانچہ لکھا ہے:-