مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 241
241 بسم اللہ الرحمن الرحیم مکرم و محترم جناب صفدر نذ یر گولیکی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اُمید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔آپ کے مسودہ بنام ولی سونگو کا ترجمہ خاکسار نے کر دیا ہے جولف ہذا ہے۔ولی سونگو کے معنے ہیں کہ دیوان مبلغ جونو (9) افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔جوتر کی ، ایران اور فلسطین سے آئے۔جب ان میں سے کوئی وفات پا جاتا یا چلا جاتا تو اس کی جگہ پر لوکل ولی علماء کا انتخاب کر لیا جاتا۔اس لیے اکثر اوقات ایک وقت میں نو (9) ولی ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام مجدد کی طرح ان ولی یا اولیاء یا علماء بزرگوں کے ساتھ مجدد کا لفظ اس مسودہ میں نہیں ہے اور مسجد دین کے بارہ میں جو حدیث ہے:- ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (ابوداؤد مشکوق) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مجددین کو اللہ تعالیٰ مبعوث کرے گا۔یعنی ان کو مجدد ہونے کا الہام ہوگا۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا۔اور الفاظ ھذہ الامۃ بتاتے ہیں کہ مجددین مسلمانوں کی اصلاح کیلئے آئیں گے۔لیکن مندرجہ ذیل مسودہ میں انڈونیشیا میں پہلے ہندو اور بدھ مذہب پھیلا تو سلمان اولیاء،علماء اور بزرگوں نے دوسرے ملکوں سے آکر اسلام کو پھیلایا۔البتہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے فرمان کے مطابق تمام احمدی مبلغین بھی مجدد ہیں۔اس لیے مندرجہ ذیل اولیاء، علماء اور بزرگوں کو بھی مسجد دکہا جا سکتا ہے۔مجدد کو انگریزی میں Reformer کہتے ہیں اور انڈونیشن زبان میں Pembaharu یعنی اصلاح کرنے والا۔چونکہ ان اولیاء اور علماء نے ہندوؤں اور بدھوں کی عادات، روایات کی جگہ پر اسلام کی اعلیٰ تعلیمات داخل کیں اس لحاظ سے وہ مجددیا مصلح کہلا سکتے ہیں۔طالب دُعا۔خاکسار محمود احمد چیمہ