مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 50
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 50 50 لڑکیوں اور لڑکوں کی پرورش کی۔اور سب سے بہت ہی شفقت و محبت کا برتاؤ تھا، خود اپنے ہاتھ سے ان کا کام کیا کرتی تھیں اور کھلانے پلانے آرام کا خیال رکھنے کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔آپ اکثر سفر پر بھی جاتی تھیں اور بظاہر اپنے آپ کو بہت بہلائے رکھتی تھیں باغ وغیرہ یا باہر گاؤں میں پھرنے کو بھی عورتوں کو لے کر جانا یا گھر میں کچھ نہ کچھ کام کرواتے رہنا کھانا پکوانا اور اکثر غرباء میں تقسیم کرنا ( جو آپ کا بہت مرغوب کام تھا، لوگوں کا آنا جانا اپنی اولاد کی دلچسپیاں یہ سب تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد پورا سکون آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا۔صاف معلوم ہوتا تھا کہ کوئی اپنا وقت کاٹ رہا ہے۔ایک سفر بظاہر ایک صبر کی چٹان ہونے کے باوجود ایک قسم کی گھبراہٹ سی بھی تھی ، جو آپ پر طاری رہتی تھی مگر ہم لوگوں کے لئے تو گویا وہ ہر غم اپنے سینہ میں چھپا کر خود سینہ سپر ہوگئی تھیں۔دل میں طوفان اس در دجدائی کے اٹھتے اور اس کو دبا لیتیں اور سب کی خوشی کے سامان کرتیں۔مجھے ذاتی علم ہے کہ جب کوئی بچہ گھر میں پیدا ہوتا تو خوشی کے ساتھ ایک رنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جدائی کا آپ کے دل میں تازہ ہو جاتا ، اور وہ آپ کو اس بچہ کی آمد پر یاد کر تیں۔(29) بہت خشوع و خصوع سے بہت سنوار کر نمازیں ادا کرنے والی۔