محسنات — Page 51
51 اس مقدس کتاب کے لئے نہایت ہی توہین آمیز کلمات استعمال کئے۔بعد میں بھی اس کا رویہ یہی رہا اور اُس نے کئی بار متواتر وہاں قرآن مجید کی توہین کو جاری رکھا جس کا میری طبیعت پر بہت بُرا اثر ہوا۔لیکن جلد ہی جب میں اُسے ملنے گئی تو میں نے اُسے نہایت ہی تکلیف دہ حالت میں پایا۔اُسے Lumbago کا شدید حملہ ہوا۔۔۔اگلے روز ہی وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔کچھ روز کے بعد دوسری ڈائریکٹر جس نے اس گفتگو میں حصہ لیا تھا بیمار ہوئی اور اس مقدس کتاب کی توہین کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہ بچ سکی اور ہسپتال میں فوت ہو گئی۔ان واقعات کے بعد اس دفتر کا Typist جس نے توہین آمیز اور مضحکہ خیز گفتگو میں حصہ لیا تھا جنوبی امریکہ گیا اس کے جانے کے تین ہفتہ کے اندراندر ہی مجھے معلوم ہوا کہ وہ بھی الہی گرفت کا شکار ہو گیا اور اس دار فانی سے کوچ کر گیا ہے۔ایک اور سیکریٹری جس نے اس تو ہین میں کچھ بھی حصہ نہ لیا تھا صحیح سلامت رہی۔ان واقعات نے میری دنیا ہی بدل ڈالی میری طبیعت پر قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت کا سکہ بیٹھنا شروع ہوا۔میں اپنے مولا کریم کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اُس نے مجھے اس کام کی سعادت عطا فرمائی۔میں نے ترجمہ کے دوران اس مقدس کتاب سے جو روحانی اثرات حاصل کئے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتے۔میں نے قرآن شریف سے لگاؤ اور تعلق بڑھانے کے لئے لنڈن ( بیت) میں گاہے بگا ہے جانا شروع کر دیا۔اور احمدیت کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ہالینڈ آنے پر تھوڑے عرصہ میں یہاں مشن قائم ہوگیا۔اور مجھے احمدیت جیسی نعمت عطا ہوئی۔(افضل 16 ستمبر 1948 صفحہ 5 کالم4-1)