محسنات — Page 49
49 میر صاحب کے علم قرآن مجید سے بھی فائدہ اٹھایا۔آپ ہی کے لئے آپ کے والد صاحب نے قائدہ یسر نا القران ایجاد کیا جو ان گنت بچوں کی تعلیم القران کا ذریعہ بنا۔آپ کو عربی زبان صرف ونحو پر دسترس حاصل تھی فارسی بھی جانتی تھیں علم حدیث بھی خوب حاصل کیا تھا۔اپنے لئے قرآن مجید اس طرح جلد کروایا تھا کہ درمیان میں سادہ صفحے لگوائے۔جس میں ضروری نوٹ لکھ لیتیں آپ نے مولوی کے امتحان میں پنجاب میں پوزیشن لی۔ان کے اعزازات میں مجلس مشاورت 1924ء کی رپورٹ میں اس کلاس کا ذکر اس طرح ہے۔قادیان میں دارالفضل کی مستورات اور لڑکیوں کو صالحہ بیگم صاحبہ، اہلیہ میر محمد الحق صاحب ، مولوی ،فاضل، قرآن مجید با تفسیر، عربی کی تیسری کتاب ، مشکوۃ، فارسی کی پہلی کتاب پڑھاتی ہیں صرف و نحو عربی کا سبق بھی دیتی ہیں۔اربعین پڑھا چکی ہیں ، قرآن کریم کا آٹھواں سیپارہ شروع ہے۔“ آپ پڑھانے کے بعد باقاعدہ پرچوں سے امتحان لیتیں۔آپ کی ایک طالبہ کی روایت ہے کہ آپ بنفس نفیس تنہا ہی تمام مضامین ایسی محبت اور دلداری سے پڑھا تیں کہ اُسی وقت سارا سبق دل پر نقش ہو جا تا اور طالبات بھی آپ کی محبت اور کشش کی وجہ سے کھنچی چلی آتیں آپ نے بڑی تعداد میں عورتوں اور بچیوں کو ترجمہ قرآن کریم پڑھایا۔قادیان کے محلہ دارالانوار اور اردگرد دیہات کے سینکڑوں بچے قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے آتے۔محترمہ اُستانی مریم بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت حافظ روشن علی صاحب ابتدائی چودہ ممبران میں سے تھیں آپ حضرت مسیح موعود کے زمانے میں قائم ہونے والے مدرسہ البنات کی طالبہ تھیں ابتدائی چار درس گاہوں میں سے ایک آپ کے گھر