محسنات — Page 269
269 نہیں ہے پیش منظر جب وہ ہستی تو پس منظر سیاہی ہی سیاہی لپک کر گود میں بھرتی ہے منزل طلب میں اُس کی جب نکلے ہیں راہی ☆۔۔مندرجہ بالا چند شاعرات کا ذکر اور مختصر نمونہ ہائے کلام صرف اس اندازے کے لئے پیش کیا گیا ہے کہ احمدی شاعرات اس میدان میں بھی کسی سے کم نہیں۔ان کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں خواتین عمدہ دل آویز شعر کہہ رہی ہیں۔مثلاً مکرمہ اصغری نور الحق صاحبہ، مکرمہ شاکرہ بیگم صاحبہ، مکر مہ طیبہ زین صاحبہ۔نثر میں خواتین کی قلمی کاوشوں کے متعلق حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کے ایک مضمون سے اقتباس پیش خدمت ہے آپ فرماتی ہیں کہ :- لجنہ کی ابتدائی ممبرات میں سے چند خواتین ایسی تھیں جن کی یہ خواہش تھی کہ عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک الگ رسالہ جاری ہو۔صف اول میں سیدہ صالحہ بیگم صاحبہ ام داؤد تھیں۔پھر اُستانی سکینۃ النساء اہلیہ قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل ممتاز حیثیت رکھتی تھیں۔ان کے علاوہ اور بہنیں بھی وقتا فوقتا احمدی خاتون اور ” تادیب النساء میں اس سلسلہ میں لکھتی رہی ہیں۔”احمدی خاتون“ ایک رسالہ عرفانی صاحب نے مستورات کے لئے جاری کیا تھا جس کا نام بعد میں حضرت مصلح موعود نے ” تادیب النساء “ رکھ دیا تھا۔کچھ عرصہ بعد وہ بھی بند ہو گیا تو الفضل کے صفحات پر احمدی خواتین کے مضامین نظر آنے لگے۔ایڈیٹر صاحب الفضل نے اعلان فرمایا کہ الفضل میں ایک صفحہ عورتوں کے مضامین کے لئے مخصوص کر دیا جائے گا۔اس اعلان کے بعد الفضل کے صفحات پر نظر ڈالیں تو ہر پر چہ میں