محسنات — Page 231
231 ترین درجات عطا فرمائے آمین۔حضرت سیّدہ اُمم طاہر کی تربیت اولاد کے بارے میں سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ یوں رقم طراز ہیں :- روز مرہ کی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے اولاد کی طرف خاص توجہ دینے کی فرصت نہیں تھی مگر ہم سے توقعات ایسی بلند رکھی ہوئی تھیں گویا 24 گھنٹے ہمیں پر کھپاتی ہیں۔ہماری غلطیوں پر سخت ناراض ہوتی تھیں اور بعض اوقات بدنی سزا بھی دیتی تھیں۔زیادہ تر غصہ بچے کی ضد پر آتا تھا۔اگر کوئی بچہ اپنی ضد پر اڑ کر بیٹھ جائے تو اس وقت تک نہیں چھوڑتی تھیں جب تک اُس کی ضد نہ توڑ لیں۔نصائح عام طور پر اُس رنگ میں کرتی تھیں کہ دل میں اُتر جاتی تھیں اگر کسی امر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حوالہ یاد ہوا تو وہ ضرور دیتی تھیں۔مثلاً ایک دفعہ ہم بہشتی مقبرہ سے دعا کر کے واپس آرہے تھے۔راستے میں کوئی شخص گزرا جس نے نہ ہمیں سلام کیا اور نہ میں نے اُسے۔اس پر مجھ سے بہت مایوس ہو ئیں کہ تمہیں اتنا بھی سلیقہ نہیں کہ راستہ میں چلتوں کو سلام کہو میں نے کہا اُس نے بھی تو نہیں کیا تھا تو کہنے لگیں تمہیں اس سے کیا غرض ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو سب کو پہلے سلام کیا کرتے تھے۔پھر نصیحت کی کہ دیکھو خواہ کوئی واقف ہو یا نا واقف ہوا سے پہلے سلام کیا کرو۔کھانے کے آداب کا بہت خیال رکھتی تھیں۔حرص اور خود غرضی سے شدید نفرت تھی۔کسی کو غیبت کرتے سن