محسنات — Page 222
222 قربانیوں سے یہ سبق سیکھا تھا کہ وہ بھی اس نیکی سے محروم نہ رہیں۔کینیڈا میں گذشتہ بارہ سال سے مینا بازار بھی انوکھی طرز کے ہوتے ہیں۔یہ صرف اور صرف (بیت) اور مشن ہاؤس کے فنڈ کے لئے مخصوص ہوتے۔آمدنی صرف ایک روزہ آمدنی نہ ہوتی بلکہ اس کے پیچھے شب و روز کی محنت جو سلائی، کڑھائی، پکوان سیل میں سستے داموں کپڑا خرید کر اور طرح طرح کی ترکیبوں سے یہ رقم بڑھائی جاتی رہی۔حتی کہ ( بیت) کی تکمیل تک مینا بازار سے حاصل ہونے والی آمدنی ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے زائد رقم پر مشتمل ہے۔مالی قربانی کی یہ اعلیٰ مثال لجنہ اماءاللہ کینیڈا نے قائم کر کے آئندہ آنے والی نسلوں اور دوسری جماعتوں کے لئے ایک راستہ کھول دیا۔۔ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں دکھائی دیتا تھا لیکن یہاں لینے کے لئے نہیں بلکہ دینے کے لئے۔۔در حقیقت یہ خلافت ہی کی برکت ہے کہ اُس نے آج معاشی بدحالی کے اس دور میں جماعت احمدیہ کے افراد میں وہ روح زندہ کر دی ہے جس نے قرونِ اولیٰ اور پھر نشاۃ ثانیہ کے ابتدائی دور کی قربانیوں کی یاد تازہ کردی۔(مصباح ستمبر 1993ء 23-26) لجنہ اماءاللہ جرمنی کی تاریخ 1973 ء تا 1990 ء مرتبہ کوثر شاہین ملک سے پتہ چلتا ہے کہ لجنہ کی تمام مہرات ہر قسم کے طوعی اور لازمی چندہ جات میں با قاعدہ بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔مثل الجنہ گیزن کی آٹھ (8) ممبرات کے نام سو (100) ( بیوت) کی تحریک کے وعدہ کے سلسلہ میں درج ہیں۔جس میں ہر ایک کی طرف سے پانچ سو (500) مارک سے لے کر تین ہزار (3,000) مارک تک وعدے لکھوائے گئے ہیں۔اور کل بارہ ہزار (12,000 ) مارک! ( تاریخ لجنہ جرمنی صفحه 39)