محسنات — Page 206
206 ہم مقیم تھے وہیں وہ آکر ملی اور اپنا زیور نکال کر کہنے لگی کہ حضور میرا یہ زیور چندہ میں دے دیں۔میں نے کہا بی بی عورتوں کو زیور کا بہت خیال ہوتا ہے اور تمہارے سارے زیور سکھوں نے لوٹ لئے ہیں۔یہی ایک زیور تمہارے پاس بچا ہے اسے اپنے پاس رکھو۔اس پر اُس نے کہا حضور جب میں ہندوستان سے چلی تھی تو میں نے عہد کیا تھا کہ اگر میں امن سے لاہور پہنچ گئی تو اپنا یہ زیور چندہ میں دے دونگی آپ مجھے اسے اپنے پاس رکھنے پر مجبور نہ کریں چنانچہ اُس عورت نے اپنا یہ زیور چندہ میں دے دیا۔( دوش بدوش صفحه 46) ہالینڈ میں (بیت) کی تعمیر کے لئے حضرت فضل عمر نے جماعت کی خواتین کوتحریک کی۔گو یہ وقت بہت مالی تنگی کا تھا اور جماعت کا اکثر حصہ ہجرت کے زخموں سے چور تھا تا ہم عورتوں کا ایسے حالات میں ( بیت ) کے لئے ایک معقول رقم کی فراہمی اُن کا ایک زندہ جاوید کا رنامہ تھا۔( دوش بدوش صفحه 47) 31 مئی 1950ء کو دفتر لجنہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔جس کی تعمیر پر -/80,000 روپے خرچ ہوئے۔7 نومبر 1952ء کو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہال میں جامعہ نصرت کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فرمایا:- ہال عورتوں کا اپنا بنایا ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ سارے پاکستان میں عورتوں کا اتنا بڑا ہال کوئی نہیں۔اور یہ خوشی کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کی عورتوں کو ہر رنگ میں ترقی کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔“ ( دوش بدوش صفحه (48)