محسنات — Page 199
199 اس میں مستورات مخاطب نہ تھیں لیکن اُن کی قربانی اور اخلاص کی روح انہیں چین نہیں لینے دیتی تھی۔چنانچہ چندہ دینے والوں کی فہرست میں مستورات کے نام بھی نمایاں تھے اُنہوں نے نقد اور زیورات دونوں ہی پیش کئے۔”مائی کا کو صاحبہ “ جو مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس کی پھوپھی تھیں نے اپنی طلائی بالیاں پیش فرمائیں۔تاریخ لجنہ جلد اول صفحہ 132) جلسہ سالانہ کے لئے دیگوں کے لئے ناظر صاحب ضیافت نے 10 / دسمبر 1936ء کے الفضل میں لکھا کہ ہمارا مطالبہ 80 دیگوں کا تھا لیکن 91 دیگوں کی قیمت وصول ہوگئی ہے۔تحریک جدید میں مالی قربانیاں : 1934 ء کا سال احمدیت کی تاریخ میں ایک اہم سال شمار ہوتا ہے۔اس سال کے دوران تمام مخالفین نے احراری تحریک کے زیر اثر مل کر یہ عزم کیا کہ جماعت احمدیہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔۔ان پر آشوب حالات میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو ) کے دل پر اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تحریک کا القاء فرمایا اور یہ تحریک تحریک جدید کے نام سے شروع کی گئی جو اتنی با برکت اور بار آور ہوئی کہ آج تک جاری ہے۔اس عظیم الشان تحریک کے ذریعے حضرت مصلح موعود نے جماعت کے سامنے 19 مطالبات رکھے ان مطالبات کی بجا آوری کے لئے جماعت احمدیہ کے مردوزن نے والہانہ لبیک کہا۔حضرت مصلح موعود نے تحریک جدید کے جو مطالبات پیش فرمائے اُن کا زیادہ تعلق خواتین سے تھا۔آپ نے تین سال تک کھانے پینے ، رہنے سہنے، آرائش وزیبائش میں سادگی اختیار کرنے کا حکم دیا۔بے ضرورت کپڑے سلوانا گوٹا کناری سلمہ تلا اور فیتہ وغیرہ پر روپیہ خرچ کرنا۔نئے زیور خریدنا ، ان سب چیزوں پر حضور نے پابندی عائد کر دی۔بجائے اس کے کہ احمدی خواتین اس بات کا برامنا تیں اُنہوں نے اس تحریک کا جواب انتہائی جوش و خروش سے