محسنات — Page 11
11 ابتدائیہ تیرھویں صدی ہجری کے اختتام اور چودھویں صدی ہجری کے آغاز پر ملت اسلامیہ کی حالت نا گفتہ بہ تھی۔خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں مذہبی ، معاشی اور معاشرتی ، ہر لحاظ سے برسوں کی غلامی کے اثرات نے ان کی ذہنی وعلمی صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد برطانوی تسلط کے دور میں عیسائیت کی یلغار ہوئی تو مسلمان اپنی علمی کم مائگی اور عملی کمزوریوں کی وجہ سے مزید شکست خوردہ ہو گئے۔الا ماشاء اللہ علمائے دین بھی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آسمان کے نیچے بدترین مخلوق بن چکے تھے۔دینی و دنیاوی افلاس کے باوجود ( دینِ حق) کے نام لیواؤں کو غفلت کے لحافوں میں پڑے سونے سے کام تھا۔احساسِ زیاں تک باقی نہ تھا۔بر و بحر میں فساد کے اس دور میں رحمت الہی نے ایک فنافی اللہ اور فنافی الرسول مسیحا کو چنا اور اپنے بندوں کو دعوت الی اللہ دینے پر ما مور فر مایا۔یہ ہم اس قدر کٹھن اور دشوار تھی کہ بظاہر کامیابی کی کوئی عملی صورت نظر نہ آتی تھی۔مگر تائید الہی سے اس گمنام و بے ہنر کی طرف رجوع جہاں ہوا اور قادیان اک مرجع خواص بستی بن گئی۔یہ کیوں نہ ہوتا جبکہ قادر و توانا اور عالم الغیب خدائے تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ( دین حق ) کی بعثت ثانیہ کے لئے منتخب فرما لیا تھا۔آپ نے تزکیہ نفس اور تعلیم کتاب الہی سے اپنے روحانی باپ کے مشن پر عمل فرمایا۔” يحيى الدين ويقيم الشریعه “ کے لئے اللہ تبارک تعالیٰ نے آپ کو قوت قدسیہ عطا فرمائی۔الہی نصرت سے آپ نے حرماں نصیبوں میں سے سعید فطرت روحوں کو مسیحائی کے اعجاز سے نئی زندگی عطا فرمائی۔تاریخ احمد بیت شاہد ہے کہ آپ کے فیضانِ قلبی اور صحبت سے فیض یاب