حُور جہاں بشریٰ داؤد — Page 95
مصباح ریوه 9095 دسمبر ۱۹۹۳ء زبان نے ساری دنیا کے سامنے آپ کا اور آپ کی نصیب ہوا مبارک باد کے لائق ہے وہ وجود جس کی خوش شعیب صا حبزادی کا اتنا اعلی ذکرہ فرمایا۔محترم ثاقب زیر و کا صاحب لاہور محبت اور خدمات کے تذکرہ نے خدا تعالیٰ کے محبوب امام کے دل میں یہ بجذبات غم و مضمون پیدا فرمائے جو مسلسل دعاؤں میں ڈھلتے چلے جا رہے تھے۔اس موقع ۲۶ ستمبر کے الفصل سے یہ مضمون کھلا کہ یہ پر دلی جذبات تعزیت کے ساتھ اس مبارک انجام پر زخم تو میرے بھائی کو پہنچا ہے۔اب سرتا پا قلق ہوں۔اس قابل فخر بیٹی کے والد گرامی کی خدمت میں مبارک باد شرمندگی میں ڈوبا ہوا ہوں۔روح کا ذرہ ذرہ انفعال بھی عرض کہتا ہوں۔جذبات کے دودھارے بیک میں غرق ہے تقدیر الہی کے آڑے یقینا نہیں آسکتا تھا وقت ساتھ ساتھ جاری ہیں۔بہت خواہش ہے کہ نہیں لیکن اپنے شقیق و خلیق بزرگ بھائی کے آنسوؤں میں آپ کی موصوفہ قابل فخر بیٹی کی زبانی سیرت نبوی کو مبارک اپنے آنسوؤں کے تار تو ملا سکتا تھا۔۔۔۔الله عزیزہ کی تذکرہ کسی سکوں ، اگر ان کی تقاریر ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ بال بال مغفرت فرمائے۔میں حضور ہی کے الفاظ میں بانگاہ ہوں تو میری درخواست ہے کہ کسی موقع پر ارسال فرمائیں رب العزت میں التجا پرداز ہوں کہ تائیں بھی وہ آواز سن سکوں جو حضور انور کے ارشاد گرامی اللہ عزیزہ موصوفہ کو غریق رحمت فرمائے اور جس سیرت کے بیان پر انہوں نے اپنی زندگی صرف کی خط تعالی اس سیرت کے فیض سے ان کے بچوں کو صبر علی کو عطا کے بعد تاریخ احمدیت کا حصہ بن گئی ہے۔محترم مرزا محمد صدیق مناسیکرٹری مال نیز نهم یو کے کرے۔اُن کے خاوند اُن کے والد اور دوسرے آپ کی صاحبزادی عزیمہ میری دائو دو جوری عالیہ عزیزوں کو خدا صبر عطا فرمائے اور سیرت کا یہ قبض اُن کی اچانک وفات کا حضور کے خاندان کو خصوصیت سے پہنچے۔کے خطبہ جمعہ سے علم ہوا۔اور یہ بھی کہ موصوفہ بڑی نیک اور اعلی تعلیم یافتہ اور احمدیت کی شیدائی تھیں۔آپ اور آپ کا خاندان محترم عطاء الحبيب مهار اند۔بين الفضل لندن ایک لیے عرصے سے جماعتی خدمات سرانجام دیتے رہے جب حضور انور نے خطبہ جمعہ میں اللہ کی بے شمار ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی بے شمار پر کتوں سے نوازے۔خوبیوں کا بھرائی ہوئی آواز میں ذکر فرمایا تو دل جذبات غنم محترمہ ناصرہ لطیف ہارون مصاحبه - U۔SA U۔S۔A-' اور جذبات رشک سے بھر گیا۔ایسا خوش انجام کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے عظیم مفضل واحسان واقعی زندگی کی کچھ حقیقت نہیں۔خوش قسمت سے ہی ہوتا ہے۔آپ کا اور آپ کے محبتین کا دل اس ہے وہ انسان جو جاتے وقت اپنے ساتھ اعمال کی دولت لائق ، ممنانہ تصادم دین ہستی کی بعدائی سے محزون تو لے کر جائے ، خوش نصیب ہے وہ انسان جس کی جدائی پر ہے لیکن کیا ہی بابرکت اور مبارک انجام ہے جو انہیں آنکھیں اشکبار اور دل افسردہ ہو جائیں۔آج مجھے سمجھے