حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 622
۱۳۰۴ عجب دارم از لطفت اے کردگار پذیرفته پسندید گانے بجائے رسند ز ما کهترانت خاکسار نے چون من آمد پسند چو از قطره خلق پیدا کنی ہمیں عادت اینجا ہویدا کنی سے تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۸ تا ۴۱۰) چند روز ہوئے کہ خدا وند کریم کی طرف سے ایک اور الہام ہوا تھا۔قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ إِنِّى مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ۔وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔وَ قَالُوا أَنَّى لَكَ هَذَا۔قُلْ هُوَ اللَّهُ عَجِيْبٌ۔يَجْتَبِي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ اور یہ آیت کہ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔بار بار الهام ہوئے اور اس قدرمتواتر ہوئے کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے اور اس قدر زور سے ہوئے کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہو گئے۔اس سے یقیناً معلوم ہوا کہ خداوند کریم ان سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا اور ان کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا اور اس عاجز کے بعد کوئی ایسا مقبول آنے والا نہیں کہ جو اس طریق کے مخالف قدم مارے اور جو مخالف قدم مارے گا۔اُس کو خدا تباہ کرے گا اور اس کے سلسلہ کو پائیداری نہیں ہو گی۔یہ خدا کی طرف سے وعدہ ہے جو ہر گز تخلف نہیں کرے گا۔(الحکم ۵ رمئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۷۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۵۳۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) لے اے پروردگار میں تیری مہربانیوں پر حیران ہوں کہ تُو نے میرے جیسے نا چیز کو قبول کر لیا ہے۔پسندیدہ لوگ تو کسی مرتبہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ہم جیسے حقیروں کی کون سی چیز پسند آ گئی۔چونکہ تو ایک قطرہ سے ایک جہاں پیدا کر دیتا ہے یہی عادت یہاں بھی ظاہر کرتا ہے۔کہا اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور میں تیرے تابعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔لوگ کہیں گے کہ یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوا؟ کہہ وہ خدا عجیب ہے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے۔اور یہ دن ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں۔