حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 619 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 619

آپ کو یادر ہے کہ قرآن کا ایک نقطہ یا شعشہ بھی اولین اور آخرین کے فلسفہ کے مجموعی حملہ سے ذرہ سے نقصان کا اندیشہ نہیں رکھتا۔وہ ایسا پتھر ہے کہ جس پر گرے گا اس کو پاش پاش کرے گا اور جو اس پر گرے گا وہ خود پاش پاش ہو جائے گا۔پھر آپ کو دب کر صلح کرینگے کیوں فکر پڑ گئی۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴ ۲۵ تا ۲۵۷ حاشیه ) الْإِشْتِهَارِ مُسْتَيْقِناً بِوَحُى اللهِ الْقَهَّار دوستو اک نظر خدا کے لئے سید الخلق مصطف کے لئے میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مُردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مُشتِ خاک کو رب العالمین سمجھا گیا ہے۔میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جا تا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر توانا مجھے تسکی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہے۔غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنے خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے۔مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔خدا قا در فرماتا ہے کہ اگر میں چاہوں تو مریم اور اس کے بیٹے عیسی اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کروں۔سواب اس نے چاہا ہے کہ ان دونوں کی جھوٹی معبودانہ زندگی کوموت کا مزہ چکھاوے۔سو اب دونو مریں گے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعداد یں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہو گا۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا۔اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔اور بعد اس کے توبہ کا دروازہ بند ہو گا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جا ئیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں۔اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ کند ہو گا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی کچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں