حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 610 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 610

۱۲۹۲ يَدْعُونَ لَكَ أَبْدَالُ الشَّامِ وَ عِبَادُ اللهِ مِنَ الْعَرَبِ یعنی تیرے لئے ابدال شام کے دعا کرتے ہیں اور بندے خدا کے عرب میں سے دُعا کرتے ہیں۔خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کب اور کیونکر اس کا ظہور ہو۔واللہ اعلم بالصواب۔از مکتوب مورخه ۶ را پریل ۱۸۸۵ء مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۶۰۷، ۶۰۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) إِنِّى أَرى أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَدْخُلُونَ أَفْوَاجًا فِي حِزْبِ اللَّهِ الْقَادِرِ الْمُخْتَارِ وَ هَذَا مِنْ رَّبِّ السَّمَاءِ وَ عَجِيْبٌ فِي أَعْيُنِ اَهْلِ الْأَرْضِينَ۔میں دیکھتا ہوں کہ اہل مکہ خدائے قادر کے گروہ میں فوج در فوج داخل ہو جائیں گے اور یہ آسمان کے خدا کی طرف سے ہے اور زمینی لوگوں کی آنکھوں میں عجیب۔نور الحق حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۱۹۷) فرمایا:۔میں نے دیکھا کہ زار روس کا سونٹا میرے ہاتھ میں آ گیا ہے وہ بڑا لمبا اور خوبصورت ہے۔پھر میں نے غور سے دیکھا تو وہ بندوق ہے اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بندوق ہے بلکہ اُس میں پوشیدہ نالیاں بھی ہیں گویا بظاہر سونٹا معلوم ہوتا ہے اور وہ بندوق بھی ہے۔اور پھر دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا۔اس کی تیر کمان میرے ہاتھ میں ہے۔بوعلی سینا بھی پاس ہی کھڑا ہے۔اور اس تیر کمان سے میں نے ایک شیر کو بھی شکار کیا۔الحکم مورخه ۳۱ /جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵) فرمایا۔”میں اپنی جماعت کو رشیا کے علاقہ میں ریت کی مانند دیکھتا ہوں۔“ (رجسٹر روایات صحا بہ جلد ۲ صفحه ۱۱۴ روایت شیخ عبدالکریم صاحب جلد ساز کراچی۔تذکرہ صفحه ۶۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء) مجھے یہ بھی صاف لفظوں میں فرمایا گیا ہے کہ پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف زور کے ساتھ رجوع ہوگا۔(اشتہار ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۳۴۱۔تذکره صفحه ۲۴۷ مطبوعه ۲۰۰۴ء) یہ خیال مت کرو کہ آریہ یعنی ہندو د یا نندی مذہب والے کچھ چیز ہیں۔وہ صرف اس زنبور کی طرح ہیں جس میں بجر نیش زنی کے اور کچھ نہیں۔وہ نہیں جانتے کہ توحید کیا چیز ہے اور روحانیت سے سراسر بے نصیب ہیں۔عیب چینی کرنا اور خدا کے پاک رسولوں کو گالیاں دینا ان کا کام ہے اور بڑا کمال ان کا یہی ہے کہ شیطانی وساوس سے اعتراضات کے ذخیرے جمع کر رہے ہیں اور تقویٰ اور طہارت کی رُوح ان میں نہیں۔یا درکھو کہ بغیر روحانیت کے کوئی مذہب چل نہیں سکتا۔اور مذہب بغیر رُوحانیت کے کچھ بھی چیز نہیں۔جس مذہب میں روحانیت نہیں اور جس مذہب میں خدا کے ساتھ مکالمہ کا تعلق نہیں اور صدق و