حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 516
۱۱۹۸ سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہوگا۔اور اگر مدت مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدائے عز وجل اس دن کو ختم نہیں کرے گا جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کرے مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر یہ شعر جاری ہوا تھا۔دیر آمده ز راه اے فخر رُسل قرب تو معلومم شد دور آمده اے پس اگر حضرت باری جل شانہ کے ارادہ میں دیر سے مراد اسی قدر دیر ہے جو اس پسر کے پیدا ہونے میں جس کا نام بطور تفاؤل بشیر الدین محمود رکھا گیا ہے ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعو دلڑکا ہو۔ورنہ وہ بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا اور ہمارے بعض حاسدین کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہماری کوئی ذاتی غرض اولاد کے متعلق نہیں اور نہ کوئی نفسانی راحت ان کی زندگی سے وابستہ ہے۔پس یہ ان کی بڑی غلطی ہے کہ جو انہوں نے بشیر احمد کی وفات پر خوشی ظاہر کی اور بغلیں بجائیں۔انہیں یقیناً یاد رکھنا چاہیئے کہ اگر ہماری اتنی اولاد ہو جس قدر درختوں کے تمام دنیا میں پتے ہیں اور وہ سب فوت ہو جائیں تو ان کا مرنا ہماری سچی اور حقیقی لذت اور راحت میں کچھ خلل انداز نہیں ہو سکتا۔میت کی محبت میت کی محبت سے اس قدر ہمارے دل پر زیادہ تر غالب ہے کہ اگر وہ محبوب حقیقی خوش ہو تو ہم خلیل اللہ کی طرح اپنے کسی پیارے بیٹے کو بدست خود ذبح کرنے کو تیار ہیں۔کیونکہ واقعی طور پر بجز اس ایک کے ہمارا کوئی پیارا نہیں جَلَّ شَانُهُ وَ عَزَّ اِسْمُهُ - فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى إِحْسَانِهِ۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۶۰ ، ۱۶۱ حاشیه بار دوم ) مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے۔(سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۶۷ حاشیہ ) میرا پہلا لڑکا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمود ہے ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے مسجد کی دیوار پر اس کا نام لکھا ہوا یہ پایا کہ محمود۔تب میں نے اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے لئے سبز رنگ کے ورقوں پر ایک اشتہار چھاپا جس کی تاریخ اشاعت یکم دسمبر ۱۸۸۸ ء ہے۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۱۴) لے اے فخر رسل مجھے تیرے قرب الہی کا (بلند مرتبہ ) معلوم ہو گیا ہے تو اس لئے دیر سے پہنچا ہے کہ بہت دور سے آیا ہے۔