حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 446
۱۱۲۸ پاس قادیان میں یا جس جگہ اپنی مرضی سے ہمیں رہنے کا اتفاق ہو رہیں اور برابر حاضر رہیں۔پس اس عرصہ میں اگر ہم کوئی امر پیشگوئی جو خارق عادت ہو پیش نہ کریں یا پیش تو کریں مگر بوقت ظہور وہ جھوٹا نکلے یا وہ جھوٹا تو نہ ہومگر اسی طرح صاحب متحن اس کا مقابلہ کر کے دکھلا دیں تو مبلغ پانسور و پیہ نقد بحالت مغلوب ہونے کے اسی وقت بلا توقف ان کو دیا جائے گا لیکن اگر وہ پیشگوئی وغیرہ بپا یہ صداقت پہنچ گئی تو صاحب مقابل کو بشرف اسلام مشرف ہونا پڑے گا۔اگر وہ پیشگوئی صاحب مقابل کی رائے میں کچھ ضعف یا شک رکھتی ہے یا ان کی نظر میں قیافہ وغیرہ سے مشابہ ہے تو اسی عرصہ چالیس روز میں وہ بھی ایسی پیشگوئی ایسے ہی ثبوت سے ظاہر کر کے دکھلاویں اور اگر مقابلہ سے عاجز رہیں تو پھر حجت اُن پر تمام ہو گی اور بحالت سچے نکلنے پیشگوئی کے بہر حال انہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور یہ تحریریں پہلے سے جانبین میں تحریر ہو کر انعقاد پا جائیں گی۔چنانچہ اس رسالہ کے شائع ہونے کے وقت سے یعنی ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء سے ٹھیک تین ماہ کی مہلت صاحبان موصوف کو دی جاتی ہے اگر اس عرصہ میں ان کی طرف سے اس مقابلہ کے لئے کوئی منصفانہ تحریک نہ ہوئی تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ گریز کر گئے۔والسلام على من اتبع الهدى المشتهر خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۱۰،۳۰۹) محال است سعدی که راه صفا تواں یافت جز در پیئے مصطفے یے سردار راج اندرسنگھ صاحب متوجہ ہو کر سنیں آپ کا رسالہ جس کا نام آپ نے خبط قادیانی کا علاج رکھا ہے میرے پاس پہنچا۔اس میں جس قدر آپ نے ہمارے سید و مولیٰ جناب محمد مصطفے و احمد مجتبی ﷺ کو گالیاں دیں اور نہایت بے باکی سے بے ادبیاں کیں اور بے اصل تہمتیں لگائیں۔اس کا ہم کیا جواب دیں اور کیا لکھیں۔سو ہم اس معاملہ کو اس قادر توانا کے سپرد کرتے ہیں جو اپنے پیاروں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ہما را افسوس اور بھی آپ کی نسبت ہوتا ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کس ادب اور تہذیب سے ہم نے ست بچن کو تالیف کیا تھا اور لے اے سعدی یہ ممکن نہیں کہ صدق وصفا کا راستہ محمد مصطفی کی پیروی کے بغیر اختیار کیا جاسکے۔