حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 430
١١١٢ میں وعدہ کیا ہے۔ہم یقینا جانتے ہیں کہ قرآنی دلیل کبھی ٹوٹ نہیں سکتی۔یہ خدا کی پیش کردہ دلیل ہے نہ کسی انسان کی اسی جہت سے میں نے اس اشتہار کو پانچ سوروپے کے انعام کے ساتھ شائع کیا ہے۔اور اگر تسلی نہ ہو تو میں یہ روپیہ کسی سرکاری بنک میں جمع کراسکتا ہوں۔اگر حافظ محمد یوسف صاحب اور اُن کے دوسرے ہم مشرب جن کے نام میں نے اس اشتہار میں لکھے ہیں اپنے اس دعویٰ میں صادق ہیں یعنی اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر باوجود مفتری ہونے کے برابر تیمیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت ﷺ ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے جو مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے، پانسو روپیہ نقد دے دوں گا اور اگر ایسے لوگ کئی ہوں تو اُن کو اختیار ہو گا کہ وہ روپیہ باہم تقسیم کر لیں۔اس اشتہار کے نکلنے کی تاریخ سے پندرہ روز تک ان کو مہلت ہے کہ دنیا میں تلاش کر کے ایسی نظیر پیش کریں۔اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۸۷ تا ۴۰۲) اے حضرات مولوی صاحبان ! آپ لوگوں کا یہ خیال کہ ہم مومن ہیں اور یہ شخص کافر اور ہم صادق ہیں اور یہ شخص کا ذب اور ہم متبع اسلام ہیں اور یہ شخص ملحد اور ہم مقبول البہی ہیں اور یہ شخص مردود اور ہم جنتی ہیں اور یہ شخص جہنمی۔اگر چہ غور کرنے والوں کی نظر میں قرآن کریم کی رُو سے بخوبی فیصلہ پاچکا ہے اور اس رسالہ کے پڑھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔لیکن ایک اور بھی طریق فیصلہ ہے جس کی رُو سے صادقوں اور کا ذبوں اور مقبولوں اور مردودوں میں فرق ہو سکتا ہے۔عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر مقبول اور مردود اپنی اپنی جگہ پر خدائے تعالیٰ سے کوئی آسمانی مدد چاہیں تو وہ مقبول کی ضرور مدد کرتا ہے اور کسی ایسے امر سے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہے اس مقبول کی مقبولیت ظاہر کر دیتا ہے۔سوچونکہ آپ لوگ اہل حق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور آپ کی جماعت میں وہ لوگ بھی ہیں جو مہم ہونے کے مدعی ہیں جیسے مولوی محی الدین وعبد الرحمن صاحب لکھو کے والے اور میاں عبدالحق غزنوی جو اس عاجز کو کافر اور جہنمی ٹھہراتے ہیں لہذا آپ پر واجب ہے کہ اس آسمانی ذریعہ سے بھی دیکھ لیں کہ آسمان پر مقبول کس کا نام ہے اور مردود کس کا نام۔میں اس بات کو منظور کرتا ہوں کہ آپ دس ہفتہ تک اس بات کے فیصلہ کے لئے احکم الحاکمین کی طرف توجہ کریں تا اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کا کوئی نشان یا کوئی اعلیٰ درجہ کی پیشگوئی جو راستبازوں کو ملتی ہے آپ کو دی جائے۔ایسا ہی