حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 363
۱۰۴۵ عورت عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرت میں لوگوں نے غلطیاں کھائی ہیں اور جادہ مستقیم سے بہک گئے ہیں۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لے مگر اب اس کے خلاف عمل ہو رہا ہے۔دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں۔ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خَلِيعُ الرَّسَن کر دیا ہے کہ دین کا کوئی اثر ہی اُن پر نہیں ہوتا اور وہ کھلے طور پر اسلام کے خلاف کرتی ہیں اور کوئی اُن سے نہیں پوچھتا اور بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے خلیج الرسن تو نہیں کیا مگر اس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی کی ہے کہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا اور کنیز کوں اور بہائم سے بھی بدتر اُن سے سلوک ہوتا ہے۔مارتے ہیں تو ایسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتہ ہی نہیں کہ آگے کوئی جاندار ہستی ہے یا نہیں۔غرض بہت ہی بُری طرح سلوک کرتے ہیں۔یہاں تک کہ پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ ایک اتار دی دوسری پہن لی۔یہ بڑی خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بُزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کا مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خلیق تھے باوجود یکہ آپ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔(الحکم، مورخہء اراپریل ۱۹۰۳ صفحہ ۲ کالم ا ملفوظات جلد دوم صفحہ ۳۸۷ ایڈیشن ۲۰۰۳) یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے۔نہیں نہیں ! ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔خَيْرُ كُمُ خَيْرُ كُمْ لَا هُلِهِ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں! دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو نہ یہ کہ ہر ادنی بات پر زدوکوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں ل النساء : ٢٠