حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 351
انسان کے سچے مجاہدہ اور دعاؤں سے نکلتا ہے۔بہت سے آدمی اپنے آپ کو خاکسار سمجھتے ہیں لیکن ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کا تکبر ہوتا ہے اس لئے تکبر کی بار یک در بار یک قسموں سے بچنا چاہئے۔بعض وقت یہ تکبر دولت سے پیدا ہوتا ہے۔دولتمند متکبر دوسروں کو کنگال سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کون ہے جو میرا مقابلہ کرے۔بعض اوقات خاندان اور ذات کا تکبر ہوتا ہے۔سمجھتا ہے کہ میری ذات بڑی ہے اور یہ چھوٹی ذات کا ہے۔بعض وقت تکبر علم سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ایک شخص غلط بولتا ہے تو یہ جھٹ اُس کا عیب پکڑتا ہے اور شور مچاتا ہے کہ اس کو تو ایک لفظ بھی صحیح بولنا نہیں آتا۔غرض مختلف قسمیں تکبر کی ہوتی ہیں اور یہ سب کی سب انسان کو نیکیوں سے محروم کر دیتی ہیں اور لوگوں کو نفع پہنچانے سے روک دیتی ہیں۔ان سب سے بچنا چاہئے مگر ان سب سے بچنا ایک موت کو چاہتا ہے جب تک انسان اس موت کو قبول نہیں کرتا خدا تعالیٰ کی برکت اُس پر نازل نہیں ہو سکتی اور نہ خدا تعالیٰ اس کا متکفل ہو سکتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه ۶۱۴،۶۱۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) اسلام چیز کیا ہے خدا کے لئے فنا ترک رضائے خویش پیئے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اِس رہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات شوخی و کبر دیو لعیں کا شعار ہے آدم کی نسل وہ ہے جو وہ خاکسار ہے اے کرم خاک چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبر حضرت رپ غیور کو بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں چھوڑو غرور و کبر کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولیٰ اسی میں ہے تقویٰ کی جڑ خدا کے لئے خاکساری ہے عفت جو شرط دیں ہے وہ تقویٰ میں ساری ہے (براہین احمدیہ حصہ پنجم ( نصرت الحق )۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۸)