حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 349
۱۰۳۱ کہ اول تو انسان مشکل سے انہیں معلوم کرتا ہے اور پھر اُن کا چھوڑنا اسے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ محرقہ بھی گو سخت تپ ہے مگر اس کا علاج کھلا کھلا ہوسکتا ہے۔لیکن تپ دق جواندر ہی کھا رہا ہے اس کا علاج بہت ہی مشکل ہے۔اسی طرح پر یہ باریک اور مخفی بدیاں ہوتی ہیں جو انسان کو فضائل کے حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔یہ اخلاقی بدیاں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاپ اور معاملات میں پیش آتی ہیں اور ذراذراسی بات اور اختلاف رائے پر دلوں میں بغض۔کینہ۔حسد۔ریا۔تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور اپنے بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔چند روز اگر نماز سنوار کر پڑھی ہے اور لوگوں نے تعریف کی تو ریا اور نمود پیدا ہو گیا اور وہ اصل غرض جو اخلاص تھی جاتی رہی اور اگر خدا تعالیٰ نے دولت دی ہے یا علم دیا ہے یا کوئی خاندانی وجاہت حاصل ہے تو اس کی وجہ سے اپنے بھائی کو جس کو یہ باتیں نہیں ملی ہیں حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے اور اپنے بھائی کی عیب چینی کے لئے حریص ہوتا ہے اور تکبر مختلف رنگوں میں ہوتا ہے۔کسی میں کسی رنگ اور کسی میں کسی طرح سے۔علماء علم کے رنگ میں اسے ظاہر کرتے ہیں اور علمی طور پر نکتہ چینی کر کے اپنے بھائی کو گرانا چاہتے ہیں۔غرض کسی نہ کسی طرح عیب چینی کر کے اپنے بھائی کو ذلیل کرنا اور نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔رات دن اس کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس قسم کی باریک بدیاں ہوتی ہیں جن کا دور کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے اور شریعت ان باتوں کو جائز نہیں رکھتی ہے۔ان بدیوں میں عوام ہی مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ جو متعارف اور موٹی موٹی بدیاں نہیں کرتے ہیں اور خواص سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اکثر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ان سے خلاصی پانا اور مرنا ایک ہی بات ہے۔اور جب تک ان بدیوں سے نجات حاصل نہ کر لے تزکیہ نفس کامل طور پر نہیں ہوتا اور انسان ان کمالات اور انعامات کا وارث نہیں بنتا جو تزکیہ نفس کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔بعض لوگ اپنی جگہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان اخلاقی بدیوں سے ہم نے خلاصی پالی ہے لیکن جب کبھی موقعہ آپڑتا ہے اور کسی سفیہ سے مقابلہ ہو جاوے تو انہیں بڑا جوش آتا ہے۔پھر وہ گند اُن سے ظاہر ہوتا ہے جس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔اس وقت پتہ لگتا ہے کہ ابھی کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔اور وہ تزکیہ نفس جو کامل کرتا ہے میسر نہیں۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تزکیہ جس کو اخلاقی تزکیہ کہتے ہیں بہت ہی مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔اس فضل کے جذب کرنے کے لئے بھی وہی تین پہلو ہیں اوّل مجاہدہ اور تدبیر دوم دعا۔سوم صحبت صادقین۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴ / جنوری ۱۹۰۵ء صفہ ۲۔ملفوظات جلد ۴ صفحه ۲۱۱،۲۱۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)