حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 340

۱۰۲۲ پر اُس نے اِس قدر جبر کیا کہ وہ کئی جگہ اس کو لئے پھرا۔یہاں تک کہ بے ادبی کی راہ سے اُسے یہ بھی کہا کہ تو مجھے سجدہ کر۔اور ایک بڑے اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی ساری بادشاہتیں اور اُن کی شان و شوکت اُسے دکھلا ئیں۔دیکھومتی ۴/۸۔پھر غور کر کے دیکھو کہ اس جگہ پر شیطان کیا بلکہ خدائی جلوہ دکھلایا گیا ہے کہ اوّل وہ بھی اپنی مرضی سے مسیح کے خلاف مرضی ایک پہاڑ پر اس کو لے گیا۔اور دنیا کی بادشاہتیں دکھا دینا خدا تعالی کی طرح اس کی قوت میں ٹھہرا۔اور بعد اس کے واضح ہو کہ یہ بات جو آپ کے خیال میں جم گئی ہے کہ گویا قرآن شریف نے خواہ نخواہ بعض لوگوں کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے یا خواہ نخواہ دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ آپ لوگ کبھی انصاف کی پاک نظر کے ساتھ قرآن کریم کو نہیں دیکھتے دیکھو اللہ جل شانہ کیا فرماتا ہے۔لَا مُلَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ (س) ۲۳ - (۵) یعنی شیطان کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں جہنم کو تجھ سے اور ان لوگوں سے جو تیری پیروی کریں بھروں گا۔دیکھیئے اس آیت سے صاف طور پر کھل گیا اللہ تعالیٰ کا یہ منشا نہیں ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کو جبر کے طور پر جہنم میں ڈالے۔بلکہ جو لوگ اپنی بداعمالیوں سے جہنم کے لائق ٹھہریں اُن کو جہنم میں گرایا جاوے گا۔اور پھر فرماتا ہے۔يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِةٍ إِلَّا الْفُسِقِينَ یعنی بہتوں کو اس کلام سے گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو یہ ہدایت دیتا ہے مگر گمراہ اُن کو کرتا ہے جو گمراہ ہونے کے کام کرتے ہیں اور فاسقانہ چالیں چلتے ہیں۔یعنی انسان اپنے ہی افعال کا نتیجہ خدا تعالیٰ سے پالیتا ہے۔جیسے کہ ایک شخص آفتاب کے سامنے کی کھڑکی جب کھول دیتا ہے تو یہ ایک قدرتی اور فطرتی امر ہے کہ آفتاب کی روشنی اور اُس کی کرنیں اس کے منہ پر پڑتی ہیں لیکن جب وہ اس کھڑکی کو بند کر دیتا ہے تو اپنے ہی فعل سے اپنے لئے اندھیرا پیدا کر لیتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل ہے بوجہ اپنے علت العلل ہونے کے ان دونوں فعلوں کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔لیکن اپنی پاک کلام میں اس نے بار ہا تصریح سے فرما دیا ہے کہ جو ضلالت کے اثر کسی کے دل میں پڑتے ہیں وہ اُسی کی بد اعمالی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔جیسا کہ فرماتا ہے فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ (س) ۲۸۔(۹) پس جبکہ وہ سنج ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو سچ کر دیا۔پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔فِي قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ ص:۸۶ البقرة: ۲۷ الصف: ۶ البقرة: اا النساء:۱۵۶