حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 315

۹۹۷ ہو۔نماز خدا کا حق ہے اُسے خوب ادا کرو۔(البدر مورخہ ۸/ مارچ ۱۹۰۴ء صفحہ ۷۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۹۱ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) انسان کی زاہدانہ زندگی کا بڑا بھاری معیار نماز ہے۔وہ شخص جو خدا کے حضور نماز میں گریاں رہتا ہے امن میں رہتا ہے۔جیسے ایک بچہ اپنی ما کی گود میں چیخ چیخ کر روتا ہے اور اپنی ما کی محبت اور شفقت کو محسوس کرتا ہے۔اسی طرح پر نماز میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ خدا کے حضور گڑ گڑانے والا اپنے آپ کو ربوبیت کی عطوفت کی گود میں ڈال دیتا ہے۔یاد رکھو اُس نے ایمان کا حظ نہیں اُٹھایا جس نے نماز میں لذت نہیں پائی۔نماز صرف ٹکروں کا نام نہیں ہے۔بعض لوگ نماز کو تو دو چار چونچیں لگا کر جیسے مرغی ٹھونگیں مارتی ہے ختم کرتے ہیں اور پھر لمبی چوڑی دعا شروع کرتے ہیں حالانکہ وہ وقت جو اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے کے لئے ملا تھا اس کو صرف ایک رسم اور عادت کے طور پر جلد جلد ختم کرنے میں گزار دیتے ہیں۔اور حضور الہی سے نکل کر دعا مانگتے ہیں۔نماز میں دعا مانگو۔نماز کو دعا کا ایک وسیلہ اور ذریعہ سمجھو۔الحکم مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ ء صفحہ ا کالم ۲ ۳۔ملفوظات جلد اول صفحه ۴۰۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) نماز کا اصل مغز اور روح تو دعا ہی ہے۔نماز سے نکل کر دعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا حال عرض کرنے کا موقع بھی ہولیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کہے لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخواست پیش کرے۔اسے کیا فائدہ۔ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں نہیں مانگتے۔تم کو جو دعائیں کرنی ہوں نماز میں کر لیا کرو اور پورے آداب الدعا کو ملحوظ رکھو۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع ہی میں دعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دعا کے آداب بھی بتا دیئے ہیں۔سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے۔الحکم مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۲ء صفحہ ۲ کالم نمبر۲۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۹۲،۱۹۱ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) نماز اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہئے۔خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں مگر اصل زبان کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے۔عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا