حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 289
۹۷۱ معلوم ہوگا کہ ایک ہی بولی ان سب کے مناسب حال نہیں تھی۔بعض ملکوں کے لوگ بعض طور کے حروف اور الفاظ کے بولنے پر بہ آسانی قادر ہیں اور بعض ملکوں کے لوگوں کو ان حروف اور الفاظ کا بولنا ایک مصیبت ہے۔پس کیونکر ممکن تھا کہ حکیم مطلق صرف ایک ہی بولی سے پیار کر کے قاعدہ وَضْعُ الشَّيْءٍ فِى مَوْضِعِہ کی رعایت نہ کرتا اور طبائع مختلفہ کے لئے جو مصلحت عامہ تھی اس کو ترک کر دیتا۔کیا مناسب تھا کہ وہ جدا جدا طبیعتوں کے لوگوں کو ایک ہی بولی کے تنگ پنجرہ میں قید کر دیتا۔علاوہ اس کے انواع و اقسام کی بولیوں کے بنانے میں خدا وند تعالیٰ کی زیادت قدرت ثابت ہوتی اور عاجز بندوں کا مختلف زبانوں میں اُس کی تعریف کرنا عبودیت کے بازار کی ایک رونق ہے۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۴۴۷ تا ۴۵۶) اشتهار کتاب من الرحمن یہ ایک نہایت عجیب و غریب کتاب ہے جس کی طرف قرآن شریف کی بعض پر حکمت آیات نے ہمیں توجہ دلائی۔سو قرآن عظیم نے یہ بھی دنیا پر ایک بھاری احسان کیا ہے جو اختلاف لغات کا اصل فلسفہ بیان کر دیا۔اور ہمیں اس دقیق حکمت پر مطلع فرمایا کہ انسانی بولیاں کس منبع اور معدن سے نکلی ہیں۔اور کیسے وہ لوگ دھوکا میں رہے جنہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا جو انسانی بولی کی جڑ خدا تعالیٰ کی تعلیم ہے۔اور واضح ہو کہ اس کتاب میں تحقیق الالسنہ کی رُو سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں صرف قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو اس زبان میں نازل ہوا ہے جو اُم الالسنہ اور الہامی اور تمام بولیوں کا منبع اور سرچشمہ ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ الہی کتاب کی تمام تر زینت اور فضیلت اسی میں ہے جو ایسی زبان میں ہو جو خدا تعالیٰ کے منہ سے اور اپنی خوبیوں میں تمام زبانوں سے بڑھی ہوئی اور اپنے نظام میں کامل ہو۔اور جب ہم کسی زبان میں وہ کمال پاویں جس کے پیدا کرنے سے انسانی طاقتیں اور بشری بناوٹیں عاجز ہوں اور وہ خوبیاں دیکھیں جو دوسری زبانیں ان سے قاصر اور محروم ہوں اور وہ خواص مشاہدہ کریں جو بجز خدا تعالیٰ کے قدیم اور صحیح علم کے کسی مخلوق کا ذہن ان کا موجد نہ ہو سکے تو ہمیں مانا پڑتا ہے کہ وہ زبان خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔سو کامل اور عمیق تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ زبان عربی ہے۔اگر چہ بہت سے لوگوں نے ان باتوں کی تحقیقات میں اپنی عمریں گزاری ہیں اور بہت کوشش کی ہے جو اس بات کا پتہ لگا ویں جو ام الالسنہ کون سی زبان ہے مگر چونکہ اُن کی کوششیں خط مستقیم پر نہیں تھیں اور نیز خدا تعالیٰ سے توفیق یافتہ نہ تھے اس لئے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔اور یہ بھی وجہ تھی کہ عربی زبان کی طرف