حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 20
۷۰۲ پس نجات حقیقی کا سر چشمہ محبت ذاتی خدائے عز وجل کی ہے جو عجز و نیاز اور دائمی استغفار کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جب انسان کمال درجے تک اپنی محبت کو پہنچاتا ہے اور محبت کی آگ سے اپنے جذبات نفسانیت کو جلا دیتا ہے تب یک دفعہ ایک شعلہ کی طرح خدا تعالیٰ کی محبت جو خدا تعالیٰ اُس سے کرتا ہے اُس کے دل پر گرتی ہے اور اس کو سفلی زندگی کے گندوں سے باہر لے آتی ہے۔اور خدائے حتی وقیوم کی پاکیزگی کا رنگ اُس کے نفس پر چڑھ جاتا ہے بلکہ تمام صفات الہیہ سے ظلی طور پر اس کو حصہ ملتا ہے۔تب وہ تجلیات الہیہ کا مظہر ہو جاتا ہے اور جو کچھ ربوبیت کے ازلی خزانہ میں مکتوم و مستور ہے اس کے ذریعہ سے وہ اسرار دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۸ تا ۳۸۰) یہ امید مت رکھو کہ کوئی اور منصو بہ انسانی نفس کو پاک کر سکے۔جس طرح تاریکی کو صرف روشنی ہی ڈور کرتی ہے اسی طرح گناہ کی تاریکی کا علاج فقط وہ تجلیات الہیہ قولی وفعلی ہیں جو معجزانہ رنگ میں پُر زور شعاعوں کے ساتھ خدا کی طرف سے کسی سعید دل پر نازل ہوتی ہیں۔اور اس کو دکھا دیتی ہیں کہ خدا ہے اور تمام ش مشکوک کی غلاظت کو دُور کر دیتی ہیں اور تسلی اور اطمینان بخشتی ہیں۔پس اس طاقت بالا کی زبر دست کشش سے وہ سعید آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے۔اس کے سوا جس قدر اور علاج پیش کئے جاتے ہیں سب فضول بناوٹ ہے۔ہاں کامل طور پر پاک ہونے کے لئے صرف معرفت ہی کافی نہیں بلکہ اُس کے ساتھ پُر درد دعاؤں کا سلسلہ جاری رہنا بھی ضروری ہے کیونکہ خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے۔اس کے فیوض کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ایسی دعاؤں کی سخت ضرورت ہے جوگر یہ اور بکا اور صدق وصفا اور در ددل سے پُر ہوں۔تم دیکھتے ہو کہ بچہ شیر خوار اگر چہ اپنی ماں کو خوب شناخت کرتا ہے اور اس سے محبت بھی رکھتا ہے اور ماں بھی اُس سے محبت رکھتی ہے مگر پھر بھی ماں کا دودھ اُترنے کے لئے شیر خوار بچوں کا رونا بہت کچھ دخل رکھتا ہے۔ایک طرف بچہ درد ناک طور پر بھوک سے روتا ہے اور دوسری طرف اُس کے رونے کا ماں کے دل پر اثر پڑتا ہے اور دودھ اُترتا ہے۔پس اسی طرح خدائے تعالیٰ کے سامنے ہر ایک طالب کو اپنی گریہ وزاری سے اپنی روحانی بھوک پیاس کا ثبوت دینا چاہئے تا وہ رُوحانی دودھ اترے اور اُسے سیراب کرے۔غرض پاک وصاف ہونے کے لئے صرف معرفت کافی نہیں بلکہ بچوں کی طرح درد ناک گریہ وزاری بھی ضروری ہے اور نومید مت ہو اور یہ خیال مت کرو کہ ہمارا نفس گناہوں سے بہت آلودہ ہے۔ہماری دعائیں کیا چیز ہیں اور کیا اثر رکھتی ہیں۔کیونکہ انسانی نفس جو دراصل محبت الہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے