حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 175
۸۵۷ اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو۔اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے۔اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۶ ، ۴۰۷) معترض صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی ہے اور پھر اعتراض کیا ہے کہ جبکہ دین کمال کو پہنچ چکا ہے اور نعمت پوری ہو چکی تو پھر نہ کسی مجدد کی ضرورت ہے نہ کسی نبی کی۔مگر افسوس کہ معترض نے ایسا خیال کر کے خود قرآن کریم پر اعتراض کیا ہے۔کیونکہ قرآن کریم نے اس امت میں خلیفوں کے پیدا ہونے کا وعدہ کیا ہے۔جیسا کہ ابھی گزر چکا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کے وقتوں میں دین استحکام پکڑے گا اور تزلزل اور تذبذب دور ہوگا اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا۔پھر اگر تکمیل دین کے بعد کوئی بھی کارروائی درست نہیں تو بقول معترض کے جو تمہیں سال کی خلافت ہے وہ بھی باطل ٹھہرتی ہے کیونکہ جب دین کامل ہو چکا تو پھر کسی دوسرے کی ضرورت نہیں لیکن افسوس کہ معترض بے خبر نے ناحق آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کو پیش کر دیا۔ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دنیا میں آ کر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کیلئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔نہ معلوم کہ بے چارہ معترض نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مجد داور روحانی خلیفے دنیا میں آکر دین کی کچھ ترمیم و تنسیخ کرتے ہیں۔نہیں وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں اور معترض کا یہ خیال کہ ان کی ل المآئدة: