حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 134
۸۱۶ اب یادر ہے کہ منتہی سلوک کا پنجم درجہ ہے اور جب پنجم درجہ کی حالت اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو اس کے بعد چھٹا درجہ ہے جو محض ایک موہبت کے طور پر ہے اور جو بغیر کسب اور کوشش کے مومن کو عطا ہوتا ہے اور کسب کا اس میں ذرہ دخل نہیں اور وہ یہ ہے کہ جیسے مومن خدا کی راہ میں اپنی روح کھوتا ہے ایک روح اس کو عطا کی جاتی ہے کیونکہ ابتدا سے یہ وعدہ ہے کہ جو کوئی خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ کھوئے گا وہ۔اسے پائے گا۔اس لئے روح کو کھونے والے روح کو پاتے ہیں۔پس چونکہ مومن اپنی محبت ذاتیہ سے خدا کی راہ میں اپنی جان وقف کرتا ہے اس لئے خدا کی محبت ذاتیہ کی روح کو پاتا ہے جس کے ساتھ روح القدس شامل ہوتا ہے۔خدا کی محبت ذاتیہ ایک روح ہے اور روح کام مومن کے اندر کرتی ہے۔اس لئے وہ خود روح ہے اور روح القدس اس سے جدا نہیں کیونکہ اس محبت اور روح القدس میں کبھی انفکاک ہو ہی نہیں سکتا۔اسی وجہ سے ہم نے اکثر جگہ صرف محبت ذاتیہ الہیہ کا ذکر کیا ہے اور روح القدس کا نام نہیں لیا۔کیونکہ ان کا باہم تلازم ہے اور جب روح کسی مومن پر نازل ہوتی ہے تو تمام بوجھ عبادات کا اس کے سر پر سے ساقط ہو جاتا ہے اور اس میں ایک ایسی قوت اور لذت آ جاتی ہے جو وہ قوت تکلف سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے یاد الہی اس سے کراتی ہے اور عاشقانہ جوش اس کو بخشتی ہے۔پس ایسا مومن جبرائیل علیہ السلام کی طرح ہر وقت آستانہ الہی کے آگے حاضر رہتا ہے اور حضرت عزت کی دائمی ہمسائیگی اس کو نصیب ہو جاتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس درجہ کے بارے میں فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ هُمُ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ہے یعنی مومن کامل وہ لوگ ہیں کہ ایسا دائمی حضور ان کو میسر آتا ہے کہ ہمیشہ وہ اپنی نماز کے آپ نگہبان رہتے ہیں۔یہ اس حالت کی طرف اشارہ ہے کہ اس درجہ کا مومن اپنی روحانی بقا کے لئے نماز کو ایک ضروری چیز سمجھتا ہے اور اس کو اپنی غذا قرار دیتا ہے جس کے بغیر وہ جی ہی نہیں سکتا۔یہ درجہ بغیر اس روح کے حاصل نہیں ہو سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مومن پر نازل ہوتی ہے کیونکہ جب کہ مومن خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان کو ترک کر دیتا ہے تو ایک دوسری جان پانے کا مستحق ہوتا ہے۔اس تمام تقریر سے ثابت ہے کہ یہ مراتب ستہ عقل سلیم کے نزدیک اس مومن کی راہ میں پڑے ہیں جو اپنے وجود روحانی کو کمال تک پہنچانا چاہتا ہے۔اور ہر ایک انسان تھوڑے سے غور کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ضرور مومن پر اس کے سلوک کے وقت چھ حالتیں آتی ہیں۔وجہ یہ ہے کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ سے کامل تعلق نہیں پکڑتا تب تک اس کا نفس ناقص پانچ خراب حالتوں سے پیار کرتا ہے اور ہر ایک حالت ل المؤمنون: ١٠