حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 118
بھی اٹھاتا ہے اور تمام اغراض نفسانی معدوم ہو کر ذاتی محبت اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اور یہ وہ مرتبہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے لفظ ایتاءِ ذِی الْقُرُبی سے تعبیر کیا ہے اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا غرض آیت اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ايْتَآئِ ذِي الْقُرنی یے کی یہ تفسیر ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے تینوں مرتبے انسانی معرفت کے بیان کر دیئے اور تیسرے مرتبہ کو محبت ذاتی کا مرتبہ قرار دیا اور یہ وہ مرتبہ ہے جس میں تمام اغراض نفسانی جل جاتے ہیں۔اور دل ایسا محبت سے بھر جاتا ہے جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے۔ومن النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ اللهِ وَاللهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ سے یعنی بعض مومن لوگوں میں سے وہ بھی ہیں کہ اپنی جانیں رضاء الہی کے عوض میں بیچ دیتے ہیں۔اور خدا ایسوں ہی پر مہربان ہے۔اور پھر فرمایا بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ہے یعنی وہ لوگ نجات یافتہ ہیں جو خدا کو اپنا وجود حوالہ کر دیں اور اس کی نعمتوں کے تصور سے اس طور سے اس کی عبادت کریں کہ گویا اس کو دیکھ رہے ہیں۔سو ایسے لوگ خدا کے پاس سے اجر پاتے ہیں۔اور نہ ان کو کچھ خوف ہے اور نہ وے کچھ غم کرتے ہیں۔یعنی ان کا مدعا خدا اور خدا کی محبت ہو جاتی ہے۔اور خدا کے پاس کی نعمتیں ان کا اجر ہوتا ہے۔اور پھر ایک جگہ فرمایا۔يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا۔إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا یعنی مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو روٹی کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں اس روٹی کھلانے سے تم سے کوئی بدلہ اور شکر گزاری نہیں چاہتے اور نہ ہماری کچھ غرض ہے۔ان تمام خدمات سے صرف خدا کا چہرہ ہمارا مطلب ہے۔اب سوچنا چاہئے کہ ان تمام آیات سے کس قدر صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف نے اعلیٰ طبقہ عبادت الہی اور اعمال صالحہ کا یہی رکھا ہے کہ محبت الہی اور رضائے الہی کی طلب بچے دل سے ظہور میں آوے مگر اس جگہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمدہ تعلیم جو نہایت صفائی سے بیان کی گئی ہے انجیل میں بھی موجود ہے۔ہم ہر ایک کو یقین دلاتے ہیں کہ اس صفائی اور تفصیل سے انجیل نے ہرگز بیان نہیں کیا۔خدا تعالیٰ نے تو اس دین کا نام اسلام اس غرض سے رکھا ہے کہ تا انسان خدا تعالیٰ کی عبادت نفسانی اغراض البقرة: ٢٠١ النحل: ۹۱ البقرة: ٢٠٨ البقرة :١١٣ ه الدهر: 9