حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 104

ZAY اس وقت کھلے کھلے ظاہر ہوتے ہیں کہ جب اتم اور اکمل درجہ پر پہنچ جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجل لا یعنی انہوں نے گوسالہ سے ایسی محبت کی کہ گویا ان کو گوسالہ شربت کی طرح پلا دیا گیا در حقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اسے پی لیتا ہے یا کھا لیتا ہے اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے۔اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے اسی قدر انسان بالطبع اپنے محبوب کی صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے یہاں تک کہ اسی کا روپ ہو جاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ ظلی طور پر بقدر اپنی استعداد کے اس نور کو حاصل کر لیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے۔پس جبکہ محبت کی حقیقت یہ ہے تو پھر کیونکر ایک کچی کتاب جو منجانب اللہ ہے اجازت دے سکتی ہے کہ تم شیطان سے وہ محبت کرو جو خدا سے کرنی چاہئے اور شیطان کے جانشینوں سے وہ پیار کرو جو رحمن کے جانشینوں سے کرنا چاہئے۔افسوس کہ پہلے تو انجیل کے باطل ہونے پر ہمارے پاس یہی ایک دلیل تھی کہ وہ ایک عاجز مشت خاک کو خدا بناتی ہے۔اب یہ دوسری دلائل بھی پیدا ہو گئیں کہ اس کی دوسری تعلیمیں بھی گندی ہیں۔کیا یہ پاک تعلیم ہو سکتی ہے کہ شیطان سے ایسی ہی محبت کرو جیسا کہ خدا سے۔اور اگر یہ عذر کیا جائے کہ یسوع کے منہ سے سہوا یہ باتیں نکل گئیں کیونکہ وہ الہیات کے فلسفہ سے ناواقف تھا تو یہ عذر نکما اور فضول ہو گا۔کیونکہ اگر وہ ایسا ہی نا واقف تھا تو کیوں اس نے قوم کے مصلح ہونے کا دعویٰ کیا ؟ کیا وہ بچہ تھا؟ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ محبت کی حقیقت بالالتزام اس بات کو چاہتی ہے کہ انسان سچے دل سے اپنے محبوب کے تمام شمائل اور اخلاق اور عبادات پسند کرے اور ان میں فنا ہونے کے لئے بدل و جان ساعی ہوتا اپنے محبوب میں ہو کر وہ زندگی پاوے جو محبوب کو حاصل ہے۔سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب میں فنا ہو جاتا ہے اپنے محبوب کے گریبان سے ظاہر ہوتا ہے اور ایسی تصویر اس کی اپنے اندر کھینچتا ہے کہ گویا اسے پی جاتا ہے اور کھا جاتا ہے کہ وہ اس میں ہو کر اور اس کے رنگ میں رنگین ہو کر اور اس کے ساتھ ہوکر لوگوں پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس کی محبت میں کھویا گیا ہے۔محبت ایک عربی لفظ ہے اور اصل معنی اس کے پر ہو جانا ہے۔چنانچہ عرب میں یہ مثل مشہور ہے کہ تَحَبَّبَ الحِمَارُ۔یعنی جب عربوں کو یہ کہنا منظور ہوتا ہے کہ گدھے کا پیٹ پانی سے بھر گیا تو کہتے ہیں کہ تَحَبَّبَ الْحِمَارُ۔اور جب یہ کہنا منظور ہوتا ہے کہ اونٹ البقرة : ۹۴