حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 73
۷۳ ۳۰۰ ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں یہ شاخ بھی برابر نشو ونما میں ہے۔۔چوتھی شاخ اس کارخانہ کی وہ مکتوبات ہیں جو حق کے طالبوں یا مخالفوں کی طرف لکھے جاتے ہیں۔چنانچہ اب تک عرصہ مذکورہ بالا میں تو نے ہزار سے بھی کچھ زیادہ خط آئے ہوں گے جن کا جواب لکھا گیا ہر اک مہینے میں غالبا تین سو سے سات سو یا ہزار تک خطوط کی آمد ورفت کی نوبت پہنچتی ہے۔پانچویں شاخ اس کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص وحی اور الہام سے قائم کی مریدوں اور بیعت کرنے والوں کا سلسلہ ہے۔چنانچہ اس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفانِ ضلالت بر پا ہے۔تو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی طیار کر۔جو شخص اس کشتی میں سوار ہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا۔اور جو انکار میں رہے گا۔اس کے لئے موت در پیش ہے اور فرمایا کہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اُس نے تیرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور اُس خدا وند خدا نے مجھے بشارت دی کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھا لوں گا مگر تیرے سے متبعین اور محبین قیامت کے دن تک رہیں گے اور ہمیشہ منکرین پر انہیں غلبہ رہے گا۔فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷ تا ۲۵) بیس برس کا عرصہ ہوا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا۔قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقًا۔كل بركة من محمّد صلى الله عليه وسلم فتبارك من علم و تعلّم۔قل ان افتريتهُ فَعَلَيَّ اجرامی۔هو الذی ارسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهرة على الدين كله لا مبدل لكلمات الله۔ظلموا وان الله على نصرهم لقدير - بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔پاک محمد مصطفے نبیوں کا سردار۔خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔جناب الہی کے احسانات کا دروازہ کھلا ہے اور اس کی پاک رحمتیں اس طرح متوجہ ہیں۔وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔وہ خدا جو ذ والجلال اور زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔“ ترجمہ: حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے ایک دن بھاگنا ہی تھا۔ہر ایک برکت ( جو تجھ کوملی ہے ) وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملی ہے۔دو انسان بڑی برکت والے ہیں جن کی برکتیں کبھی اور کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوں گی۔ایک وہ یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جس کی طرف سے اور جس کے فیضان سے یہ تمام برکتیں تجھ پر اتاری گئی ہیں۔اور دوسرا وہ انسان جس پر یہ ساری برکتیں نازل ہوئیں (یعنی یہ عاجز) کہہ اگر میں