حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 46

۴۶ مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے۔اور اس کا نام خاتم الخلفاء ہے پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُس کے آخر میں مسیح موعود ہے۔اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے۔اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الذِيْنِ كُلِّهِ (الصف: ١٠) یعنی خداوہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے۔۔۔اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۱،۹۰) میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے۔اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اُس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں۔جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔(تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۳) مجھے خدا تعالیٰ نے میری وحی میں بار بار امتی کر کے بھی پکارا ہے اور نبی کر کے بھی پکارا ہے اور ان دونوں ناموں کے سننے سے میرے دل میں نہایت لذت پیدا ہوتی ہے اور میں شکر کرتا ہوں کہ اس مرکب نام سے مجھے عزت دی گئی۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۵۵) اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے دو نام میں نے پائے۔ایک میرا نام امتی رکھا گیا جیسا کہ میرے نام غلام احمد سے ظاہر ہے۔دوسرے میرا نام ظلمی طور پر نبی رکھا گیا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حصص سابقہ براہین احمدیہ میں میرا نام احمد رکھا اور اسی نام سے بار بار مجھ کو پکارا اور یہ اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ میں ظلمی طور پر نبی ہوں۔پس میں اُمتی بھی ہوں اور ظلمی طور پر نبی بھی ہوں۔اسی کی طرف وہ وحی الہی بھی اشارہ کرتی ہے جو حصص سابقہ براہین احمدیہ میں ہے۔كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔یعنی ہر ایک برکت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔پس بہت برکت والا وہ انسان ہے جس نے تعلیم کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔اور پھر بعد اس کے بہت برکت والا وہ ہے جس نے تعلیم پائی یعنی یہ عاجز۔پس اتباع کامل کی وجہ سے میرا نام امتی ہوا اور پورا