حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 503
۵۰۳ معرفت ہم وہ چو بخشیدی دلم کے بدہ زاں ساں کہ دادی ساغری ! اے دست خداوندم مصطف بنام کش شدے در ہر مقام ناصرے سے من گیر از رو لطف و کرم در مهم باش یار و یاورے سے تکیه بر زور تو دارم گرچه من گرچه من ہمچو خاکم بلکہ زاں ہم کمترے ہے (دیباچہ براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحہ ۱۷ تا ۲۳)۔آن شد عالم که نامش مصطفے سید عشاق حق شمس الضحه آنکہ ہر نورے طفیل نور اوست آنکه منظور خدا منظور اوست ۲ در آنکہ بہر زندگی آپ رواں معارف ہمچو بحر بیکراں کے آنکه بر صدق و کمالش در جہاں صد دلیل و حجت روشن عیاں A آنکہ انوار خدا بر روئے او مظہر کارِ خدائی کوئے او 2 آنکہ جملہ انبیاء و راستاں خادمانش ہمچو خاک آستاں نا لے مجھے معرفت عطا فرما جیسے تو نے دل دیا ہے شراب بھی عطا کر جبکہ تو نے جام دیا ہے۔ے اے میرے خدا۔مصطفی کے نام پر جس کا تو ہر جگہ مددگار رہا ہے۔ے اپنے لطف وکرم سے میرا ہاتھ پکڑ اور میرے کاموں میں میرا دوست اور مددگار بن جا۔میں تیری قوت پر بھروسہ رکھتا ہوں اگر چہ میں خاک کی طرح ہوں بلکہ اس سے بھی کم تر۔وہ جہاں کا بادشاہ جس کا نام مصطفیٰ “ ہے جو عشاق حق کا سردار اور شمس الضحی ہے۔وہ وہ ہے کہ ہر نور اسی کے طفیل سے ہے اور وہ وہ ہے کہ جس کا منظور کردہ خدا کا منظور کر دہ ہے۔کے اس کا وجود زندگی کے لئے آب رواں ہے اور حقائق اور معارف کا ایک نا پیدا کنارسمندر ہے۔وہ کہ جس کی سچائی اور کمال پر دنیا میں سینکڑوں دلیلیں اور روشن براہین ظاہر ہیں۔وہ جس کے منہ پر خدائی انوار برستے ہیں اور جس کا کوچہ نشانات الہی کا مظہر ہے۔ا وہ کہ تمام نبی اور راست باز خاک در کی طرح اس کے خادم ہیں۔