حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 461
۴۶۱ اصول ہونا چاہئے کہ ہر یک نئی بات جو ظہور میں آوے پہلے ہی اپنی عقل سے بالا تر دیکھ کر اس کو رد نہ کریں بلکہ خوب متوجہ ہو کر اُس کے ثبوت یا عدم ثبوت کا حال جانچ لیں۔اگر وہ ثابت ہو تو اپنے قانون قدرت کی فہرست میں اس کو بھی داخل کر لیں۔اور اگر وہ ثابت نہ ہو تو صرف اتنا کہہ دیں کہ ثابت نہیں مگر اس بات کے کہنے کے ہم ہرگز مجاز نہیں ہوں گے کہ وہ امر قانون قدرت سے باہر ہے۔بلکہ قانون قدرت سے باہر کسی چیز کو سمجھنے کے لئے ہمارے لئے پر ضرور ہے کہ ہم ایک دائرہ کی طرح خدائے تعالیٰ کے تمام قوانین از لی وابدی پر محیط ہو جائیں اور بخوبی ہمارا فکر اس بات پر احاطہ تام کر لے کہ خدائے تعالیٰ نے روز ازل سے آج تک کیا کیا قدرتیں ظاہر کیں اور آئندہ اپنے ابدی زمانہ میں کیا کیا قدرتیں ظاہر کرے گا۔۔۔بہر حال اگر ہم خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اس کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کی اُمید رکھیں۔کیونکہ اگر وہ ہمارے مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود ہو سکیں تو پھر غیر محدود اور غیر متناہی کیونکر رہیں؟ اور اس صورت میں نہ صرف یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا فانی اور ناقص تجربہ خدائے ازلی و ابدی کی تمام قدرتوں کا حد بست کرنے والا ہوگا بلکہ ایک بڑا بھاری نقص یہ بھی ہے کہ اُس کی قدرتوں کے محدود ہونے سے وہ خود بھی محدود ہو جائے گا اور پھر یہ کہنا پڑے گا کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ کی حقیقت اور گنہ ہے ہم نے سب معلوم کر لی ہے اور اس کے گہراؤ اور تہہ تک ہم پہنچ گئے ہیں اور اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے حاجت بیان نہیں۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۰ تا ۶۵) میں پوچھتا ہوں کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے عام اور اعلانیہ طور پر یہ دعولی مشہور کر دیا تھا کہ میرے ہاتھ سے معجزہ شق القمر وقوع میں آ گیا ہے اور کفار نے اس کو بچشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس کو جاد و قرار دیا اپنے اس دعوئی میں بچے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین آنحضرت جو اُسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبریں گویا نقارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چُپ رہے اور کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مواخذہ نہ کیا کہ آپ نے کب چاند کو دوٹکڑے کر کے دکھایا اور کب ہم نے اس کو جادو کہا اور اس کے قبول سے منہ پھیرا اور کیوں اپنے مرتے دم تک خاموشی اختیار کی اور منہ بند رکھا یاں تک کہ اس عالم سے گذر گئے ؟ کیا ان کی یہ خاموشی جو اُن کی مخالفانہ حالت اور جوش مقابلہ کے بالکل بر خلاف تھی اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ کوئی ایسی سخت روک تھی جس کی وجہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے مگر بجر ظہور سچائی کے اور کون سی روک تھی؟ یہ معجزہ مکہ میں ظہور میں آیا تھا اور مسلمان ابھی بہت کمزور اور غریب اور عاجز تھے۔پھر تعجب یہ