حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 453 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 453

۴۵۳ تھیں اور مسیح کی رُوح کو خوشی پہنچائی۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۴۳) وحی الہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا چہرہ حسب صفائی باطن نبی منزل علیہ کے نظر آتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پاک باطنی وانشراح صدری و عصمت و حیا و صدق و صفا و تو گل و وفا اور عشق الہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل واعلیٰ و اکمل وارفع و اجلی واصفی تھے اس لئے خدائے جلّ شانہ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر و عاشق تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقوئی و اکمل وارفع واتم ہو کر صفات الہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔سو یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف ایسے کمالاتِ عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاعوں اور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہو رہی ہے۔کوئی ذہن ایسی صداقت نکال نہیں سکتا جو پہلے ہی سے اس میں درج نہ ہو۔کوئی فکر ایسی برہان عقلی پیش نہیں کر سکتا جو پہلے ہی سے اس نے پیش نہ کی ہو۔کوئی تقریر ایسا توی اثر کسی دل پر ڈال نہیں سکتی جیسے قوی اور پر برکت اثر لاکھوں دلوں پر وہ ڈالتا آیا ہے۔وہ بلاشبہ صفات کمالیہ حق تعالیٰ کا ایک نہایت مصفی آئینہ ہے جس میں سے وہ سب کچھ ملتا ہے جو ایک سالک کو مدارج عالیہ معرفت تک پہنچنے کے لئے درکار ہے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷۱ ۷۲ حاشیہ ) چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل الانبیا اور سب رسولوں سے بہتر اور بزرگ تر تھے اور خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ جیسے آنحضرت اپنے ذاتی جوہر کے رُو سے فی الواقعہ سب انبیاء کے سردار ہیں ایسا ہی ظاہری خدمات کے رُو سے بھی ان کا سب سے فائق اور برتر ہونا دنیا پر ظاہر اور روشن ہو جائے اس لئے خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو کافہ بنی آدم کے لئے عام رکھا تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محنتیں اور کوششیں عام طور پر ظہور میں آدیں۔موسی اور ابن مریم کی طرح ایک خاص قوم سے مخصوص نہ ہوں اور تا ہر یک طرف سے اور ہر یک گروہ اور قوم سے تکالیف شاقہ اٹھا کر اس اجر عظیم کے مستحق ٹھہر جائیں کہ جو دوسرے نبیوں کو نہیں ملے گا۔(براہین احمدیہ ہر چہار حص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۶۵۴،۶۵۳) میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اُس وقت تک گذر