حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 410
۴۱۰ قبولیت اس کو ملے گی کہ کوئی بات اُس کے آگے انہونی نہیں رہے گی۔زندہ خدا جو لوگوں سے پوشیدہ ہے اُس کا خدا ہو گا اور جھوٹے خدا سب اس کے پیروں کے نیچے کچلے اور روندے جائیں گے۔وہ ہر ایک جگہ مبارک ہوگا اور الہی قو تیں اُس کے ساتھ ہوں گی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸۲ ۸۳) اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ وافضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پر دے اُٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔اور قرآن شریف جو کچی اور کامل ہدایتوں اور تاثیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔براہین احمدیہ ہر چہار تصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۵۸،۵۵۷ حاشیه در حاشیہ نمبر۳) دنیا میں کروڑ ہا ایسے پاک فطرت گذرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے۔لیکن ہم نے سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مرد خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔اِنَّ اللهَ وَمَلَيْكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تسلیما ان قوموں کے بزرگوں کا ذکر تو جانے دو جن کا حال قرآن شریف میں تفصیل سے بیان نہیں کیا گیا صرف ہم ان نبیوں کی نسبت اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے۔جیسے حضرت موسیٰ حضرت داؤد حضرت عیسی علیھم السلام اور دوسرے انبیاء سو ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہ آتے اور قرآن شریف نازل نہ ہوتا اور وہ برکات ہم بچشم خود نہ دیکھتے جو ہم نے دیکھ لئے تو ان تمام گذشتہ انبیاء کا صدق ہم پر مشتبہ رہ جاتا کیونکہ صرف قصوں سے کوئی حقیقت حاصل نہیں ہو سکتی اور ممکن ہے کہ وہ قصے صحیح نہ ہوں اور ممکن ہے کہ وہ تمام معجزات جو اُن کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ سب مبالغات ہوں کیونکہ اب ان کا نام ونشان نہیں بلکہ ان گذشتہ کتابوں سے تو خدا کا پتہ بھی نہیں لگتا اور یقینا نہیں سمجھ سکتے کہ خدا بھی انسان سے ہم کلام ہوتا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ سب قصے حقیقت کے رنگ میں آگئے۔اب ہم نہ قال کے طور پر الاحزاب :۵۷