حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 326
۳۲۶ غیروں سے کرنا اُلفت کب چاہے اُس کی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي جو کچھ نہیں ہے راحت سب اُس کی جود و منت اُس سے ہے دل کی بیعت دل میں ہے اس کی عظمت بہتر ہے اس کی طاعت طاعت میں ہے سعادت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا اُس بن نہیں گذارا غیر اس کے جھوٹ سارا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي یارب ہے تیرا احساں میں تیرے در پہ قرباں تو نے دیا ہے ایمان تو ہر زماں نگہباں تیرا کرم ہے ہر آں تو ہے رحیم و رحماں روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي کیونکر ہو شکر تیرا، تیرا ہے جو ہے میرا تُو نے ہر اک کرم سے گھر بھر دیا ہے میرا جب تیرا نور آیا جاتا رہا اندھیرا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ( محمود کی آمین۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۱۹ ،۳۲۰) جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزبیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا بُلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر لوح مزار مرزا مبارک احمد صاحب - در مشین اردو صفحه ۱۰۰ شائع کرده نظارت اشاعت ربوہ ) وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو جو کچھ بچوں میں پاتے ہو اُس میں وہ کیا نہیں سورج پہ غور کر کے نہ پائی وہ روشنی جب چاند کو بھی دیکھا تو اس یار سا نہیں واحد ہے لاشریک ہے اور لازوال ہے سب موت کا شکار ہیں اُس کو فنا نہیں سب خیر ہے اسی میں کہ اس سے لگاؤ دل ڈھونڈو اُسی کو یارو! جُوں میں وفا نہیں اس جائے پر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے یہ مقام یہ بستاں سرا نہیں تفخیذ الا ذبان ماہ دسمبر ۱۹۰۸ صفحه ۵ ۴۸ - در نشین صفحه ۱۵۲)