حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 314

۳۱۴ یا اس کو سرگن مان کر ایسی تشبیہ قرار دی ہے کہ گویا وہ عین مخلوقات ہے اور ان دونوں صفات کو جمع نہیں کیا۔مگر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ان دونوں صفات کے آئینہ میں اپنا چہرہ دکھلایا ہے اور یہی کمال توحید ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۹۷ تا ۹۹) مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھو اوس میں ہرگز نہیں پاؤ گے کہ عرش بھی کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے۔خدا نے بار بار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں ہی پیدا کرنے والا ہوں۔میں ہی زمین آسمان اور روحوں اور اُن کی تمام قوتوں کا خالق ہوں۔میں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں۔قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے۔اُس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چار ہیں جو دید کے رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح کی رُو سے اون کا نام فرشتے بھی ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹صفحه ۳ ۴۵ تا ۶ ۴۵) عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو تشبیہی مرتبہ سے بالاتر اور ہر ایک عالم سے برتر اور نہاں در نہاں اور تقدس اور تنزہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا اس پر بیٹھا ہوا ہے۔اسی لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ کبھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلی کرتا ہے ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز کو میں نے اٹھایا ہوا ہے۔یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اٹھایا ہوا ہے اور عرش جو ہر ایک عالم سے برتر مقام ہے وہ اُس کی تنزیہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بارلکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ایک صفت تشبیہی دوسری صفت تنزیہی اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک تشبیہی صفت اور دوسری تنزیہی صفت۔اس لئے خدا نے تشبیہی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ ، آنکھ، محبت ، غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان