حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 225

۲۲۵ آتے ہیں حالانکہ ابتداء ان کی کسی کی افتراء سے ہی ہو گی۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ افتراء سے مراد ہمارے کلام میں وہ افتراء ہے کہ کوئی شخص عمداً اپنی طرف سے بعض کلمات تراش کر یا ایک کتاب بنا کر پھر یہ دعوی کرے کہ یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس نے مجھے الہام کیا ہے اور ان باتوں کے بارے میں میرے پر اُس کی وحی نازل ہوئی ہے۔حالانکہ کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔سو ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔اور ہم لکھ چکے ہیں کہ توریت بھی یہی گواہی دیتی ہے اور انجیل بھی اور فرقان مجید بھی۔ہاں جس قدر دنیا میں جھوٹے مذہب نظر آتے ہیں۔جیسے ہندوؤں اور پارسیوں کا مذہب، اُن کی نسبت یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی جھوٹے پیغمبر کا سلسلہ چلا آتا ہے بلکہ اصل حقیقت ان میں یہ ہے کہ خود لوگ غلطیوں میں پڑتے پڑتے ایسے عقائد کے پابند ہو گئے ہیں۔دنیا میں تم کوئی ایسی کتاب دکھا نہیں سکتے جس میں صاف اور بے تناقض لفظوں میں کھلا کھلا یہ دعوی ہو کہ یہ خدا کی کتاب ہے۔حالانکہ اصل میں وہ خدا کی کتاب نہ ہو بلکہ کسی مفتری کا افتراء ہو۔اور ایک قوم اس کو عزت کے ساتھ مانتی چلی آئی ہو۔ہاں ممکن ہے کہ خدا کی کتاب کے الٹے معنے کئے گئے ہوں۔جس حالت میں انسانی گورنمنٹ ایسے شخص کو نہایت غیرت مندی کے ساتھ پکڑتی ہے کہ جھوٹے طور پر ملازمت سرکاری ہونے کا دعویٰ کرے تو خدا جو اپنے جلال اور ملکوت کے لئے غیرت رکھتا ہے کیوں جھوٹے مدعی کو نہ پکڑے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۶۳ ۶۴۔نوٹ )