حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 216

۲۱۶ نہ کسی اور بنا پر۔اور ایسی آنکھیں حاصل کرنا جو حض اس کے ساتھ دیکھتی ہوں اور ایسے کان حاصل کرنا جو محض اس کے ساتھ سنتے ہوں اور ایسا دل پیدا کرنا جو سراسر اس کی طرف جھکا ہوا ہو۔اور ایسی زبان حاصل کرنا جو اس کے بلائے بولتی ہو۔یہ وہ مقام ہے جس پر تمام سلوک ختم ہو جاتے ہیں۔اور انسانی قومی اپنے ذمہ کا تمام کام کر چکتے ہیں۔اور پورے طور پر انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جاتی ہے۔تب خدا تعالیٰ کی رحمت اپنے زندہ کلام اور چمکتے ہوئے نوروں کے ساتھ دوبارہ اس کو زندگی بخشتی ہے اور وہ خدا کے لذیذ کلام سے مشرف ہوتا ہے اور وہ دقیق در دقیق نور جس کو عقلیں دریافت نہیں کر سکتیں اور آنکھیں اس کی گنہ تک نہیں پہنچتیں وہ خود انسان کے دل سے نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ یعنی ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس سے نزدیک ہیں۔پس ایسا ہی وہ اپنے قرب سے فانی انسان کو مشرف کرتا ہے۔تب وہ وقت آتا ہے کہ نابینائی دور ہو کر آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے خدا کو ان نئی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس کی آواز سُنتا ہے اور اس کی نور کی چادر کے اندر اپنے تئیں لپٹا ہوا پاتا ہے۔تب مذہب کی غرض ختم ہو جاتی ہے اور انسان اپنے خدا کے مشاہدہ سے سفلی زندگی کا گندہ چولا اپنے وجود پر سے پھینک دیتا ہے اور ایک نور کا پیراہن پہن لیتا ہے اور نہ صرف وعدہ کے طور پر اور نہ فقط آخرت کے انتظار میں خدا کے دیدار اور بہشت کا منتظر رہتا ہے۔بلکہ اسی جگہ اور اسی دنیا میں دیدار اور گفتار اور جنت کی نعمتوں کو پالیتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ یعنی جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو جامع صفات کاملہ ہے جس کی ذات اور صفات میں اور کوئی شریک نہیں اور یہ کہہ کر پھر وہ استقامت اختیار کرتے ہیں اور کتنے ہی زلزلے آویں اور بلائیں نازل ہوں اور موت کا سامنا ہو ان کے ایمان اور صدق میں فرق نہیں آتا۔اُن پر فرشتے اترتے ہیں اور خدا ان سے ہم کلام ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ تم بلاؤں سے اور خوفناک دشمنوں سے مت ڈرو۔اور نہ گذشتہ مصیبتوں سے غمگین ہو۔میں تمہارے ساتھ ہوں اور میں اسی دنیا میں تمہیں بہشت دیتا ہوں جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا۔پس تم اس سے خوش ہو۔اب واضح ہو کہ یہ باتیں بغیر شہادت کے نہیں اور یہ ایسے وعدے نہیں کہ جو پورے نہیں ہوئے بلکہ ہزاروں اہل دل مذہب اسلام میں اس روحانی بہشت کا ق : ۱۷ حم السجدة : ٣١