مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 44
سمسم کلام نے مجھے بلوایا اور اس کے ہاتھ نے مجھے ہلایا۔سو میں نے یہ مسودہ اللہ تعالی کے فضل اور اشارے سے اور القاء سے لکھا ہے۔وَلا حَولَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِالله - وہ ہی قادر ہے آسمان و زمین میں۔اے رب! جو میں نے لکھا ہے محض تیری قوت و طاقت اور تیرے الہام کے اشارے سے لکھا ہے پس تمام تعریف تیرے ہی لئے ہے ، اے رب العالمین!"۔مترجمه عزیزم مولوی عبدالرحمن از حصه عربی آئینہ کمالات اسلام از صفحه ۵۸۱ تا ۵۸۹) مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور الله شجاعت اور سخاوت اور ہمد ردئی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں۔کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا تعالٰی کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دیتا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی یا ان میں جن کے دلوں میں ان کی صحبت کا اثر ہے۔مولوی صاحب موصوف اب تک تین ہزار روپیہ کے قریب اللہ اس عاجز کو دے چکے ہیں اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں۔اگر چہ یہ طریق دنیا اور معاشرت کے اصولوں کے مخالف ہے مگر جو شخص خدا تعالی کی ہستی پر ایمان لا کر اور دین اسلام کو ایک سچا اور منجانب اللہ دین سمجھ کر اور بائیں ہمہ اپنے زمانہ کے امام کو بھی شناخت کر کے اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآن کریم کی محبت اور عشق میں فانی ہو کر محض اعلاء کلمہ اسلام کے لئے اپنے مال حلال اور طیب کو اس راہ میں خدا کرتا ہے اس کا جو عند الله قدر ہے وہ ظاہر ہے۔اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔