حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 86 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 86

سوانح میاں محمد موسی صحابی حضرت مسیح موعود بردباری اور ذہانت کی مثال میاں محمد یحیی صاحب نے بتایا: 41۔1940 کی بات ہے جب میرے والد میاں محمد موسیٰ صاحب حیات تھے۔ان دنوں لاہور میں کئی ٹھگ گھوما کرتے تھے اور ان پڑھ اور سید ھے سادھے لوگوں کو کسی نہ کسی بہانے سے لوٹتے تھے۔ایک گروہ سونا بنانے والوں کا بھی تھا۔وہ لوگ بہت ہو شیار اور باتونی ہوتے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ جوانی میں ان کو بھی سونا بنانے کا بہت شوق تھا۔ایک دن انہوں نے مشاورت کے لئے اپنے ابا سے اس بارے میں استفسار کیا۔میاں محمد موسیٰ نے کہا ہاں مجھے سونا بنانا آتا ہے اور میں کل تمہیں اس کا اصل نسخہ سمجھاؤں گا۔والد صاحب سناتے ہیں: اگلے دن میاں جی نے مجھے کام پر بہت صبح ہی لگا دیا۔والد صاحب ان دنوں ویلڈنگ کا کام کیا کرتے تھے۔ان کو اُس دن ان کی استطاعت سے زیادہ کام دے دیا اور کہا کہ اسے ام سے پہلے مکمل کر لو تا کہ سونا بنانے کی ترکیب تمہیں بتائی جائے۔اتا جان نے اس دن شام تک دو گنا کام کیا۔میاں جی نے اس کام کی مالیت کا اندازہ لگایا اور اتنی رقم اتنا جان کو دیتے ہوئے کہا کہ سوہا بازار ( سونے کا کاروبار کرنے والوں کا لاہور میں بازار میں لبھا رام سنیار کے پاس جاؤ۔وہ میرا جاننے والا ہے اور اس سے اتنی مالیت کا خالص سونا لے آؤ۔تم اسے میر ا بتاؤ گے تو تمہیں ناخالص سونا نہیں دے گا۔اتنا جان دی ہوئی رقم کا خالص سونا لے آئے اور بہت خوش تھے کہ آج سونا بنانے کا طریقہ معلوم ہو جائے گا۔میاں محمد موسیٰ نے سوناد دیکھا تو کہا کہ بہت خالص سونا ہے۔سونا دیکھنے کے بعد انہوں نے ابا جان کے ہاتھ میں اسے واپس تھما دیا اور کہا کہ آج سارے دن میں تم نے محنت کر کے اتنا سونا بنایا ہے۔سونا بنانے کا اس سے مجرب کوئی نسخہ نہیں۔میاں موسیٰ نے نہایت خوبصورت انداز میں سمجھا دیا اور ہمیشہ ہمیش کے لئے ٹھگوں کی ٹھگی سے نجات دلوادی۔کیا عمدہ طریق تھا بات ذہن نشین کرانے کا؟ بزرگوں کے