لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 60
”ساری رات میں نے خدا سے دعا کی۔ایک منٹ نہیں سویا۔دعا کر تا رہا۔صبح کی اذان کے وقت مجھے آواز آئی بڑی پیاری۔وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِعِيْنَ ہمارے مہمانوں کی فکر کرو۔وہ تو بڑھتے ہی رہیں گے تعداد میں۔۔۔وَسِعُ مَكَانَكَ مہمان بڑھتے چلے جائیں گے ، ان کی فکر کرو، اپنے مکانوں میں وسعت پیدا کرو۔استہزاء کا منصوبہ ضرور بنایا ہے انہوں نے مگر اس کے لئے ہم کافی ہیں۔“ الفضل جلسہ سالانہ نمبر 1980ء۔ص10) اُن دنوں حضور کے پاس جو بھی مصیبت زدہ احمد کی ملاقات کے لئے حاضر ہوتا تو وہ حضور کو مل کر تمام دکھ بھول جاتا اور حضور کے چہرہ مبارک پر تعلق باللہ اور توکل علی اللہ اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی بشارتوں کے نتیجہ میں جو بشاشت ہوتی تھی وہ ملاقات کے بعد ان کے چہروں پر بھی منتقل ہو جاتی اور وہ ہنستے مسکراتے آپ کے دفتر سے باہر آتے اور ان قربانیوں پر جو اللہ تعالیٰ ان سے لے رہا تھا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے۔اس طرح 1974ء کے پُر آشوب دور میں آپ نے احمدیوں کو جینے کے نئے ڈھنگ سکھائے۔حضور کو وَسِعُ مَكَانَكَ کا جو الہام ہوا تھا اس کے پیش نظر حضور نے جماعت کے تربیتی اور تبلیغی اور دیگر روحانی پروگراموں میں وسعت پیدا فرمائی اور حضور کی حسن 60