لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 160
پیرا ہوں بلکہ اپنے بچوں کو بھی ان کی طرف توجہ دلائیں اور ان پر عمل کروائیں۔اگر عور تیں اپنے گھر کی اکائی سے اصلاح کی طرف توجہ دیں اور اس میں حصہ لینے والی بن جائیں تو اس سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے تربیتی معاملات میں بہت بہتری آسکتی ہے۔پاکستان میں عورتوں اور خاص طور پر نوجوان پڑھی لکھی بچیوں کے بارہ میں یہ اطلاعیں بھی مجھے ملتی رہتی ہیں کہ ان میں پردے کا معیار کم ہو تا جارہا ہے۔حالانکہ میں بار بار اس طرف توجہ دلا چکا ہوں۔اور صرف میر اتوجہ دلانا ہی نہیں بلکہ یہ تو قرآن کریم کا ایک بنیادی حکم ہے۔اگر آپ کے پردہ کا معیار پہلے اچھا تھا اور اب اس میں کمی آگئی ہے تو یہ بات لوگوں کو آپ پر انگلی اٹھانے کا موقع دے گی۔اسلام میں جو پردے کا حکم ہے اس پر دے کا افریقہ کی عورتوں میں، غیر مسلم عورتوں میں کوئی تصور نہیں تھا اور نہ ہی مسلمان ہونے سے پہلے ان کے پردے کا کوئی معیار تھا لیکن جب وہ عیسائیت سے، لا مذ ہبیت سے مسلمان ہوئیں تو ان کے نزدیک سر اور جسم کو اچھی طرح سے ڈھانپ لینا ہی پردہ قرار پایا اور انہوں نے پھر ہمیشہ اپنے اس پر وہ کے معیار کو قائم رکھا ہے۔بلکہ اس میں بہتری بھی کر رہی ہیں۔بعض نے انتہائی اچھا معیار بھی قائم کر لیا ہے۔160