لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 116
ادا کرتی ہیں اور ان کے ادا کرنے میں جہاں جہاں صبر سے کام لینا پڑتا ہے کیا آپ میں وہ صبر موجود ہے؟ کیا آپ میں وہ شکر موجود ہے کہ آپ کم کو بھی زیادہ سمجھیں اور اپنی ضروریات و خواہشات کو وسائل کی حدود میں رکھیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے مزید پیار کو حاصل کر سکیں؟ کیا آپ اپنے آپ کو غیبت، غصہ، تحقیر اور لغو باتوں میں وقت ضائع کرنے سے بچاتی ہیں ؟ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے صرف وعدے ہی ہیں یا واقعہ میں آپ دینی پروگراموں کی خاطر دنیاوی کاموں کو چھوڑ دیتی ہیں۔اگر تو ایسا ہے تو اس جو بلی کو خوشیوں سے منائیں کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں کے موافق جو اس نے پیارے نبی عاشق رسول صلی الی نام سے کئے ہیں فتوحات آپ کے قدم چومنے کی منتظر ہیں۔لیکن اگر آپ منزل سے دور ہیں تو اس میں منزل کا نہیں بلکہ ان قدموں کا قصور ہے جو سست روی سے چلتے ہیں۔اور ایسے ست رووں کے لئے حضرت مسیح موعود نے علیحدگی کی وعید سنائی ہے۔آپ فرماتے ہیں ”اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو ، اور گالیاں سنو اور شکر کرو اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔تم خدا کی آخری جماعت ہو سووہ عمل نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہوں۔ہر ایک جو تم میں سست ہو جائے گا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا۔اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے 116