لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 107
سامان فراہم کرتا ہے۔جو تقویٰ اختیار کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔پس تقویٰ وہ زادِ راہ ہے جو اس دنیا میں بھی کام آتا ہے اور اخروی زندگی میں بھی۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے : أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔(الحشر: 19) یعنی اے وہ لو گو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تقویٰ کی بہت فضیلت اور اہمیت بیان فرمائی ہے۔آپ نے اپنی جماعت کو تقویٰ کی مختلف راہیں بتائی ہیں اور ان پر چلنے کے طریق بھی سکھائے ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔”چاہئے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے روح القدس سے حصہ لو کہ بجز روح القدس کے حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتی۔اور نفسانی جذبات کو بکلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی 107