مذہب کے نام پر فسانہ

by Other Authors

Page 46 of 94

مذہب کے نام پر فسانہ — Page 46

(۲)۔برٹش رعایا سے ہند میں سے کوئی فرقہ ایسا نہ ہوگا جس کے دل میں اس مبارک تقریب کی مسرت جوش زن نہ ہو گی اور اس کے بال بال سے صدائے مبارک باد نہ اٹھتی ہوگی۔مگر خاص کر فرقہ اہل اسلام جس کو سلطنت کی اطاعت اور فرمانروائی وقت کی عقیدت اس کا مقدس مذہب سکھاتا اور اس کو ایک فرض مذہبی قرار دیتا ہے اس اظہار مسرت اور ادائے مبارک باد میں دیگر مذاہب کی رعایا سے پیشقدم ہے علی الخصوص گروہ اہل حدیث منجملہ اہل اسلام اس اظہار مسرت وعقیدت اور دعائے برکت میں چند قدم اور بھی سبقت رکھتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جن برکتوں اور نعمتوں کی وجہ سے یہ ملک تاج برطانیہ کا حلقہ بگوش ہورہا ہے از آنجملہ ایک بے بہا نعمت مذہبی آزادی سے یہ گروہ ایک خصوصیت کے ساتھ اپنا نصیبہ اٹھا رہا ہے۔(۳)۔وہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ مذہبی آزادی اس گروہ کو خاص کر اسی سلطنت میں حاصل ہے بخلاف دوسرے اسلامی فرقوں کے ان کو اسلامی سلطنتوں میں بھی یہ آزادی حاصل ہے۔اس خصوصیت سے یقین ہو سکتا ہے کہ اس گروہ کو اس سلطنت کے قیام و استحکام سے زیادہ مسرت ہے اور ان کے دل سے مبارک باد کی صدائیں زیادہ زور کے ساتھ نعرہ زن ہیں۔ہم بڑے جوش سے دعا مانگتے ہیں کہ خدا وند تعالیٰ حضور والا کی حکومت کو اور بڑھائے اور تا دیر حضور والا کا نگہبان رہے تا کہ حضور والا کی رعایا کے تمام لوگ حضور کی وسیع حکومت میں امن اور تہذیب کی //// 46