مضامین بشیر (جلد 4) — Page 371
مضامین بشیر جلد چهارم مولوی عبد اللطیف صاحب حج کیلئے روانہ ہو گئے 371 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے حج بدل پر مولوی عبداللطیف صاحب کی روانگی پر آپ نے جود عائیہ فہرست مرتب فرمائی اس میں آپ نے تحریر فرمایا۔میں نے ان کو ربوہ سے روانہ ہوتے وقت جہاں تک میں سوچ سکا دعاؤں کی ایک لمبی فہرست دی تھی اور اس کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر لکھ دیا تھا کہ ے وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے زباں چلتی نہیں شرم و حیا ہے حج اسلام کی اہم ترین عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا چپہ چپہ گویا عبادتوں اور دعاؤں کی خاص دعوت دیتا ہے۔ہر انسان ان ساری دعوتوں کو نہ تو شائد سمجھ سکتا ہے اور نہ ان کا جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے جو کچی وفاداری کا تقاضا ہے۔اس کے متعلق غالباً غالب کا یہ شعر ہی پڑھا جا سکتا ہے کہ جان تم پر نثار کرتا ہوں میں نہیں جانتا وفا کیا ہے ( محررہ یکم مئی 1962ء) (روز نامہ الفضل 18 اپریل 1962ء) خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ نیکی اور تقولی اور عملی قوت کو ترقی دیں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے زیر اہتمام خدام کی پندرہ روزہ سالانہ تربیتی کلاس کا افتتاح مورخہ 4 مئی 1962ء کو عمل میں آیا۔محترم سید داؤد احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے افتتاحی تقریر میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا درج ذیل بصیرت افروز پیغام پڑھ کر سنایا۔) وو پیغام تو بہت ہو چکے ہیں۔اب تو عمل کا سوال ہے اس لئے میرا پیغام یہ ہے کہ خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ نیکی اور تقویٰ اور عملی قوت کو ترقی دیں۔دنیا کا وسیع میدان حق و صداقت کی پیاس میں تڑپ رہا ہے بلکہ خود