مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 125 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 125

مضامین بشیر جلد چهارم 125 ہی میں اس موضوع پر ان کے بعض مضامین رسالہ الفرقان میں شائع ہوئے ہیں۔نیز اس موضوع پر ریویو آف ریلیجز انگریزی میں بھی اس وقت نو اقساط شائع ہو چکی ہیں اور دسویں قسط سنسکرت زبان کے متعلق ابھی ابھی ریویو کے خاص نمبر میں شائع ہوئی ہے۔جس میں سنسکرت کے کثیر حصہ لغت کا سراغ عربی تک پہنچایا گیا ہے۔محترم شیخ محمد احمد صاحب کی یہ علمی تحقیق نہایت قابل قدر ہے بلکہ دراصل یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس معرکۃ الآراء تحقیق کا تتمہ ہے جو حضور نے اپنی کتاب من الرحمن میں خدا سے علم پا کر فرمائی ہے۔احباب کو چاہئے اس علمی تحقیق میں خاص دلچسپی لیں تا کہ یہ کام اپنی پوری شان کے ساتھ تکمیل کو پہنچ جائے۔دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ صرف ایک علمی تحقیق ہی نہیں ہے بلکہ تبلیغ اسلام کا ایک زبر دست حربہ بھی ہے۔کیونکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوئی ختم نبوت پر اور قرآن کے آخری شریعت ہونے پر زبر دست روشنی پڑتی ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَان قَوْمِهِ (ابراهيم:4) یعنی ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ مبعوث کیا ہے اس لئے ضروری تھا کہ وہ عظیم الشان نبی جو ختم نبوت کا تاج پہن کر آیا اور ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے مبعوث ہوا وہ ایسے ملک میں پیدا ہوتا جس کی زبان تمام زبانوں کی ماں ہوتی۔یہی وہ صورت ہے جس میں قرآنی ارشاد بلسان قومہ کا مفہوم صحیح صورت میں متحقق ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے کمال حکمت سے آپ کو ایسی زبان کے ساتھ مبعوث کیا جو تمام زبانوں کی ماں ہے۔اور اس طرح گویا آپ کی بعثت عربی زبان کے ذریعہ دنیا بھر کی زبانوں کے ساتھ ہوگئی۔پس اتم الالسنہ کی تحقیق ایک محض علمی تحقیق ہی نہیں ہے بلکہ ایک عظیم الشان تبلیغی تحقیق بھی ہے جس کا اسلام کی صداقت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے ہمارے بھائی شیخ محمد احمد صاحب کو اس میدان میں تحقیق کرنے اور اپنی تحقیق کو کامیاب انجام تک پہنچانے کی توفیق دی اور اس ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ مقدس منشاء اور مقصد پورا ہوا جو کتاب متن الرحمن کی تصنیف میں حضور کو مد نظر تھا۔پس جماعت کا فرض ہے کہ اس اہم کام میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لے تا کہ محترم شیخ محمد احمد صاحب نہ صرف اپنی اس تحقیق کو مکمل صورت میں شائع کر سکیں۔بلکہ اگر اس میں ابھی تک کوئی امر تکمیل کا متقاضی ہو تو اسے بھی مکمل کر